ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کے قومی جانور مارخور کا عالمی دن منانے کی قراردادمنظور

datetime 3  مئی‬‮  2024 |

اقوام متحدہ(این این آئی )اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 24 مئی کو پاکستان کے قومی جانور مارخور کا عالمی دن منانے سے متعلق قرارداد کی منظوری دے دی ، یہ قرار داد پاکستان اور 8 دیگر ممالک نے پیش کی تھی ۔ قرارداد میں عالمی سطح پر اس دن کو منانے کی دعوت دی گئی ہے اور تمام متعلقہ فریقین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ مارخور کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت میں اس کے مجموعی ماحولیاتی نظام میں اس کے کردار کے پیش نظربین الاقوامی اور علاقائی تعاون کو بڑھانے پر غور کریں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے۔قرارداد میں اقوام متحدہ کے ماحولیات کے پروگرام (یو این ای پی ) کو مارخور کے عالمی دن کو منانے میں سہولت فراہم کرنے پر زور دیا گیا ۔

قرارداد کامتن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارخور ایک مشہور اور ماحولیاتی لحاظ سے جانوروں کی اہم نسل ہے جو وسطی اور جنوبی ایشیا کے پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ قرارداد میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ مارخور اور اس کے قدرتی مسکن کا تحفظ ایک ماحولیاتی ضرورت ہے اور علاقائی معیشت کو تقویت دینے ، تحفظ کی کوششوں اور پائیدار سیاحت اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع ہے۔ پاکستان میں مارخور صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی) کے شہر چترال، کوہستان اور کالام کے علاقوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان ، صوبہ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے کچھ حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ مارخور کی نسل ایک زمانے میں معدوم ہونے کے قریب تھی لیکن اب اس کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے اور یہ دو عشروں میں دوگنا ہو گئی ہے۔

اب یہ مسلسل 10 واں سال ہے جب مارخورکی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این ) کے ایک اہلکار سعید عباس نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ مارخور کی آبادی 2014 سے سالانہ 2 فیصد کے تناسب سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارخور کی موجودہ تخمینہ شدہ آبادی 3,500 اور 5,000 کے درمیان ہے، ان کی اکثریت خیبر پختونخوا میں ہے، اس کے بعد گلگت بلتستان اور بلوچستان میں یہ پایا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…