جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائیکورٹ کی پی ٹی آئی کو 30 مارچ کے جلسے کی اجازت دینے کی ہدایت

datetime 27  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو تحریک انصاف کو 30 مارچ کے جلسے کی اجازت دینے کی ہدایت کی ہے ۔ بدھ کو پی ٹی آئی کی اسلام آباد میں 30 مارچ کو جلسے کی اجازت دینے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔دوران سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی کا رائٹ آف اسمبلی تو نہیں چھینا جا سکتا، جلسے سب نے کیے ہیں، آپ قواعد و ضوابط اور شرائط طے کر لیں۔پی ٹی آئی کے وکیل و رہنما شیر افضل مروت نے کہاکہ ہم اب 6 اپریل کو اسلام آباد میں جلسہ کرنا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ آپ صرف یہ خیال رکھیں کہ کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہو۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز دہشتگردی کا ایک افسوسناک واقعہ بھی ہوا ہے، جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ زندگی رکتی تو نہیں ہے، چلتی رہتی ہے، ہمیں اسی طرح دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے ہدایات لینے کا وقت دے دیں، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ کی رضامندی نہیں مانگ رہا، فیصلہ میں نے کرنا ہے۔دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دینے کی ہدایت دے دی۔

چیف جسٹس نے سرکاری وکیل کو ہدایت دی کہ اپنی شرائط و ضوابط پر عملدرآمد کروا کے جلسے کی اجازت دے دیں۔قبل ازیں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی)اسلام آباد نے پی ٹی آئی کی جلسے کی اجازت کی درخواست مسترد کردی تھی، بعدازاں پی ٹی آئی نے معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر کے آج تک جواب طلب کر لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…