جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر ڈی ریل ہو سکتے تھے، چیف جسٹس

datetime 8  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر ڈی ریل ہو سکتے تھے،فوجی عدالتوں میں انٹرا کورٹ اپیلوں میں میری رائے میں جسٹس طارق پر غیر ضروری اعتراض کیا گیا۔سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں انٹرا کورٹ اپیلوں میں میری رائے میں جسٹس طارق پر غیر ضروری اعتراض کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس سردار طارق مسعود نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر اپنے نوٹ میں کوئی رائے نہیں دی تھی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اعتراض ہونے پر بینچ میں بیٹھنے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ جسٹس سردار طارق مسعود نے پریکٹس پروسیجر کمیٹی میں بڑا اہم کردار ادا کیا، وہ کہتے تھے 40 سے 50 کیس میری عدالت میں لگا دیں، جسٹس سردار طارق مسعود کی عدالت زیادہ فیصلے سنانے کیلئے مشہور ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس سردار طارق مسعود کا پس منظر میں بھی ایک کردار ہے، وہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بننے کے حقدار تھے، جسٹس سردار طارق مسعود کو چیف جسٹس نہ بنا کر صوبے کا نقصان ہوا، اس کا فائدہ سپریم کورٹ کو ہوا کیونکہ یہ سپریم کورٹ آگئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر ڈی ریل ہو سکتے تھے، ہم نے چھٹیوں پر جانے سے پہلے رات کو بیٹھ کر اس آرڈر کے خلاف کیس سنا، ہم تب وہ کیس تین سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنا کر سننا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے بیٹھنے سے انکار کردیا تھا، ہم نے ان کے بعد دوسرے سینئر جج کو ساتھ بٹھایا اور رات 12 بجے فیصلہ سنایا، ایسا نہ ہوتا تو صدرِ پاکستان اور الیکشن کمیشن کی دی تاریخ پر الیکشن ڈیل ریل ہوسکتے تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی خالی آسامیوں کا احساس ہے، ججز کی تعیناتیوں کے حوالے سے رولز میں ترامیم پر غور ہو رہا ہے، وقت آگیا ہے ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا الگ سیکریٹریٹ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…