منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سستے ڈالر کا لالچ دے کر جعلی چھاپوں میں کون ملوث؟ گرفتار ملزمہ بینش عرف بٹو نے اہم راز کھول دیے

datetime 8  جون‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی) سستے ڈالر کا لالچ دے کر مبینہ ایف آئی اے ٹیم کے جعلی چھاپوں میں شوکت رضا سمیت پولیس افسران کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا، گرفتار ملزمہ بینش عرف بٹو نے چھاپہ مار گینگ کے راز کھول دیے۔

تفصیلات کے مطابق درخشاں تھانے میں 20 مئی اور 2 جون کو دوعلیحدہ مقدمات درج ہوئے تھے، جن میں مدعی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کس طرح ان کو پہلے سستے ڈالر کی خریداری کا لالچ دے کر بلایا گیا اور اس کے بعد ایف آئی اے کاؤنٹرٹیرارزم ونگ کی جانب سے چھاپہ مار کر مبینہ طور پر لوٹ لیا گیا۔جس کے بعد ساوتھ شعبہ تفیش نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا اور بینش نامی خاتون کو گرفتار کیا تو اس پورے معاملے میں دیگر ملزمان کے علاوہ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شوکت رضا کا نام سامنے آیا۔

جس پر پولیس نے چھاپہ مارکارروائیوں کا سسلسلہ شروع کیا، پولیس حکام نے بتایا کہ شوکت رضا سمیت دیگر پولیس اہلکار جو ڈیپوٹیشن پر ایف آئی اے میں تعینات ہیں اور دیگر کچھ اداروں کے اہلکار بھی اس پورے معاملے میں ملوث ہیں۔معاملے کی تفتیش شروع ہونے کے بعد ایف آئی اے حکام نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کارپوریٹ کرائم سرکل شوکت رضا اور ابو حمیر نامی افسر کو کلوز کردیا۔دوسری جانب گرفتار ملزمہ بینش عرف بٹو نے چھاپہ مار گینگ کے مزید راز کھولتے ہوئے بتایا کہ وہ کلفٹن کے نجی مال میں آئسکریم کا اسٹال لگاتی تھی اور چند ماہ پہلے تیمور نامی شخص سے اس کی دوستی ہوئی، جس نے اجمل نامی ایف آئی اے کے افسر سے دوستی کروائی۔ بینش عرف بٹو کا کہنا تھا کہ اجمل نے کہا وہ غیرقانونی ڈالر رکھنے والوں کو پکڑتے ہیں، تم بھی سرکاری کام کرو تمہیں انعام ملے گا۔

جس پر بینش نے اپنے دوست دلاور کو سستے ڈالرکا بتایا تو وہ7 اپریل کو سی ویو پر ڈالر خریدنے والوں کو ساتھ لایا تاہم بعد میں مجھے پتہ چلا کہ انہوں نے ریڈ مار کر ان کو لوٹ لیا تھا۔گرفتار ملزمہ کا کہنا تھا کہ اجمل نے مجھے اپنی ٹیم کے لوگوں سے ملاقات کروائی تھی، جس میں شوکت رضا اور حمیر نامی افسران تھے، 1 جون کو اجمل نے پھر مجھے مال سے لیا اور بخاری لے گئے، جہاں رات 8 بجے ایک کار کو سائیڈ دے کر روکا اور چھاپہ مارا اور اسے بھی لوٹ لیا۔پولیس حکام کے مطابق ڈی ایس پی شوکت رضا اور اس کے ساتھی فرار ہیں، ملزمان نے مزید وارداتیں بھی کی ہیں جو رپورٹ نہیں ہوئی۔پولیس نے انکشاف کیا کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے کچھ اور پولیس افسران بھی ملوث ہیں اور دعوی کیا کہ کیس میں جلد مذیدگرفتاریاں کریں گے، گرفتار ملزمہ بینشن عرف بٹو سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…