اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ذیابیطس کے مریضوں میں شکر کی بار بار کمی بینائی کیلئے خطرناک قرار

datetime 29  جنوری‬‮  2023 |

نیویارک(این این آئی) اگرچہ ذیابیطس کے مریضوں کو بینائی میں کمی کا خطرہ لاحق رہتا ہے لیکن جن مریضوں کی شکر بار بار اچانک کم ہوجاتی ہے ان کی آنکھوں کو قدرے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس طرح خون میں بار بار شکر کی کمی سے ذیابیطس سے وابستہ بینائی کے مسائل بھی پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے بتایا کہ جیسے ہی مریضوں کی شوگر کم ہوتی ہے آنکھ سے وابستہ خلیات میں آکسیجن کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے اور اس طرح کئی بار یہ عمل رونما ہوتا رہتا ہے اور بصارت کم ہوسکتی ہے۔اس تحقیق میں انسان اور چوہوں کے آنکھ کے خلیات مع ریٹینا تجربہ گاہی ماحول میں کچھ اسطرح فروغ دیئے گئے ہیں کہ ان میں اچانک شکر کی کمی کی گئی اور اس کے اثرات نوٹ کیے گئے۔ یہ تحقیق سیل رپورٹس نامی تحقیقی جریدے کی تازہ اشاعت میں چھپی ہے۔جامعہ سے وابستہ سائنسداں اکریت سودھی اور ان کے ساتھیوں نے کہا کہ اگر انسولین لینے والے ذیابیطس کے مریضوں میں دن میں دو مرتبہ شکر کی مقدار معمول سے کم ہوجائے تو ان کی آنکھیں مزید متاثر ہوسکتی ہیں۔ ان کے مطابق انسولین نہ لینے والے ذیابیطس کے مریضوں کو بھی اس کیفیت کا سامنا ہوسکتا ہے اور یہ دورانِ نیند بھی ہوسکتا ہے۔ اس سے ایک جانب تو آنکھ کو آکسیجن کی فراہمی کم ہوتی ہے تو دوسری جانب ریٹینا کے خلیاتی پروٹین بڑھ جاتے ہیں اس سے خون کی رگیں موٹی ہوجاتی ہیں اور ذیابیطس سے پہلے سے ہی متاثر بینائی مزید خراب ہوسکتی ہے۔اگرچہ اس پورے عمل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم ڈاکٹروں کے مطابق یہ تبدیلی آنکھ کے خلوی (سیلولر) اور سالماتی(مالیکیولر)سطح پر ہوتی ہے۔ پھر جی ایل یو ٹی ون نامی جین کا اظہار بڑھ جاتا ہے اور ایک قسم کا پروٹین زیادہ بننے لگتا ہے جو آکسیجن کو مزید کم کرتا ہے۔سائنسدانوں نے اس عمل کا مکمل طریقہ کار(پاتھ وے)بھی معلوم کیا ہے اور یوں اب مزید تحقیق کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…