منگل‬‮ ، 12 مئی‬‮‬‮ 2026 

سزا یافتہ مفرور ملک کی سب سے اہم تعیناتی اور تقدیرکے فیصلے کرنے جارہا ہے،عمران خان کا اہم سوال

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

لاہور(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم سزا یافتہ مفرور سے لندن میں ملاقات کر کے سب سے اہم عہدے پر تعیناتی کیلئے مشاورت کر رہا ہے،سزا یافتہ مفرور ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے جارہا ہے، نواز شریف کو میرٹ کا مطلب ہی پتہ نہیں،کیا نواز شریف میرٹ پر تعیناتی کرے گا،

یہ بالکل بھی ایسا نہیں کرے گا، ہم چاہتے ہیں فیصلے میرٹ پر ہونے چاہئیں،نواز شریف اور آصف زرداری اگر چوری کا پیسہ ملک میں واپس لے آئیں تو ہمیں آئی ایم ایف سے قرضوں کی ضرورت ہی نہ پڑے، قوم ملک اور اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے حقیقی آزادی مارچ میں شریک ہو، قوم کے پاس کبھی کبھی موقع آتا ہے وہ اپنی تقدید بدل سکے، قوم میں شعور آ گیا ہے، یہ جاگی ہوئی قوم ہے،میرا ایمان ہے میرے اللہ نے اس مشن کوپورا کرانا ہے، ہم نے مافیاز کا مقابلہ کرنا ہے۔ اپنی رہائشگاہ زمان پارک سے حقیقی آزادی مار چ کے شرکاء سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا وزیر اعظم برطانیہ جاتا ہے اورلندن میں پاکستان سے چوری کئے ہوئے پیسے سے خریدے گئے گھر کے اندر سزا یافتہ مفرور سے ملتا ہے جو جھوٹ بول کر ملک سے بھاگا تھا کہ وہ علاج کرانے جارہا ہے،یہی نواز شریف مشرف کے دور میں جھوٹ بول کر گیا تھا میں نے کوئی معاہدہ نہیں کیا، این آر او لے کر ملک واپس آیا اور آٹھ سال بعد شہزاد ے نے معاہدے دکھایا۔انہوں نے کہاکہ خود شہباز شریف پر ایف آئی اے کے کیس میں فرد جرم عائد ہونے جارہی تھی تاہم سازش کے تحت اسے اوپر بٹھا یا گیا،دو ماہ میں گواہ مر گئے اورپتہ نہیں چلا کیسے دل کا دورہ پڑ ا اور ایف آئی کا تحقیقاتی افسر بھی مر گیا۔ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق 90ء کی دہائی میں شہباز شریف نے ماورائے عدالت لوگ مارے،

شہباز شریف اور رانا ثنا ء اللہ نے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ذریعے لوگوں کو قتل کرایا،یہ چور لند ن میں پاکستان کی سب سے اہم اہم پوزیشن آرمی چیف کا فیصلہ کرنے جارہے ہیں ،ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے جارہے ہیں کہ انتخابات کب ہوں گے،نگراں حکومت کتنی دیر کیلئے ہو گی، جوتیس سال سے چوری کر کے پیسہ باہر لے کر جارہا ہے وہ فیصلہ کریگا،

سولائزڈ ملک میں ایسا تصور بھی نہیں ہے کیونکہ وہاں پر سب سے پہلے قانون کی حکمرانی ہے، برطانیہ میں قانون کی حکمرانی ہے، وہاں کوئی پکڑا جائے اسے سزا مل جائے تو اسے این آر او نہیں ملتا۔ عمران خان نے کہا کہ انہوں نے بلیک میل کر کے این آر او لیا ہے، انہوں نے ہمارے دور میں تین لانگ مارچ کیوں کئے تھے،این آر او لینے کے لئے، فیٹف پر بلیک میل کیا کہ کسی طرح ان کی چوری معاف کر دوں،

میں نے پہلے دن سے کہا تھا ان کو این آر او نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہاکہ کون سا ملک کا نظام ہے جہاں چھوٹا چور جیل میں اور بڑے ڈاکو بچ کر نکل جائیں،پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہی نہیں۔ یہاں طاقت کی حکمرانی ہے جو طاقتور ہے جو مرضی کر سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اعظم سواتی کا کیس ہوا، مجھے گولیاں لگی ہیں،سابق وزیر اعظم ایف آئی آڑ نہیں کٹوا سکتا کیونکہ طاقتور سامنے کھڑا ہے۔ یہاں ر تماشہ ہو رہا ہے،

سارے ملک میں ڈیل کی جارہی ہے، طاقتو ڈاکوؤں سے ڈیل کی جاتی ہے ان کو سزا نہیں ملتی، کوئی قوم جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے وہ ترقی نہیں کر سکتی، جو غریب ممالک ہیں سب میں ایک ہی چیز نظر آئے گی کہ وہاں طاقتور قانون سے اوپر ہے پیسے چوری کر کے باہر بھجوا رہے ہیں اور باہر محلات خرید رہے ہیں۔ اوورسیز کیوں تحریک انصاف کو سپورٹ کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں انصاف کیا ہوتا ہے،

انہوں نے باہر کے معاشروں میں انصاف دیکھا ہوا ہے، جنگل کے قانون والے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر امر بالمعروف نہیں ہے، اللہ کا حکم ہے اچھائی کے ساتھ کھڑے اور برائی کے خلاف کھڑے ہوں، باہر کے معاشروں میں قوم اچھائی کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے،قوم امر بالمعروف کی وجہ سے اخلاقیات کی وجہ سے اوپر آتی ہے،یہاں اخلاقیات کا قتل ہو رہا ہے،ایک مفرور آدمی ملک کے فیصلے کر رہا ہے،

نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی ریاست میں امر بالمعروف قائم کیا،عدل و انصاف قائم کیااس کی وجہ سے وہاں خوشحالی آئی۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو کیا پیغام جارہا ہے جو سزا یافتہ ہے جسے ملک کی سب سے بڑی عدالت سے سزا ملی وہ آج ملک کے مستقبل کے فیصلے کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ملک کیلئے المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکمرانوں کی یہی کامیابی ہے کہ ان کے کیسز ختم ہو رہے ہیں، گیارہ سو ارب روپے کے کیسز ختم کرا لئے ہیں،

چوری ہضم کر رہے ہیں،باقی ملک اور معیشت کا بیڑہ غرق ختم کر دیا ہے، چھ فیصد گروتھ ریٹ تھا جو آج کہاں ہے،کسانوں کا آج کیا حال ہے، برآمدات گر رہی ہیں ترسیلات زر کم ہو رہی ہیں ڈالر کم ہو رہے ہیں قرضے بڑھتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ایک رسید دکھائی ہے پیسہ کہاں سے آیا ہے کبھی قطری خط او رکبھی کیبلری فونٹ آ جاتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ قوم ایٹم بم برداشت کر سکتی ہے، جاپان پر دو ایٹم بم گر تھے،جرمنی میں دوسری جنگ عظیم میں ایک عمارت کھڑی نہیں تھی،

اخلاقیات کوبمباری سے ختم نہیں کر سکتے، جب اخلاقیات تباہ ہوتی ہے توبھاگتے پھریں،آج امپورٹڈ حکمران باہر کے ممالک میں گھٹنے پکڑرہے ہیں،گورا رنگ آتا ہے اس کے پاؤں میں گر جاتے ہیں،شہباز شریف کہتا ہے میں مانگنے تو نہیں آیا لیکن میں مجبور ہوں،یہ تیس سال سے ایسا ہی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو کامیاب ملک ہیں ان کے ادارے مضبوط ہوتے ہیں یہ جو کر رہے ہیں لندن میں تماشہ ہو رہا ہے،یہ ادارے مضبوط کرنے کے لئے نہیں ہو رہا، نواز شریف نے میرٹ پر ایک کام نہیں کیا،

اسے میرٹ کا مطلب ہی پتہ نہیں، کبھی رشتہ دار لے آتا ہے،وہ لوگ لاتا ہے جو اس کے فائدے میں ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر پنجاب پولیس صحیح کام نہیں کر رہی تو کون ذمہ دارہے، انہوں نے تیس سال پہلے ججز کورشوتیں دینا شروع کیں، انہیں خریدنے کی کوشش کی، یہ وہ لوگ ہیں جوحاضر سروس پر حملہ کرتے ہیں،شہباز شریف بریف کیس لے کر گیا اورکوئٹہ میں جج خریدنے کی کوشش کی، یہ جسٹس سجاد علی شاہ کی کتاب میں لکھا ہوا ہے، ان کے ساتھ ساتھ کیا کیونکہ وہ کنٹرول میں نہیں تھا،

ایسا نہیں تھا کہ وہ ملک کے لئے برا تھا بلکہ وہ ان کے کنٹرول میں نہیں تھا،ان کی یہی تاریخ ہے، جج کو ٹیلیفون کر کے کہتے ہیں بینظیر کو تین سال نہیں پانچ سال سزا دو، یہ عدلیہ کو نہیں چلنے دیتے،پولیس کا انہوں نے بیڑہ غرق کر دیا، الیکشن کمیشن ان کے گھر کا نوکر ہے،الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر انہوں نے ای وی ایم مشین نہیں آنے دی،مجھے ذاتی کیا فائدہ تھا، اس سے صاف اور شفاف انتخابات ہوتے تو ملک کی جمہوریت آگے بڑھتی۔عمران خان نے کہا کہ میں ان سے سوال پوچھتا ہوں

انہوں نے ساری زندگی میرٹ پر کچھ کیا ہے؟جوملک کے اندر آرمی چیف کی سلیکشن ٹھیک کریں گے۔ یہ خریدو یا ڈراؤ کی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ چاہتے ہیں آرمی چیف اپنا ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے چوری کرنی ہے،سب کچھ کنٹرول کر بیٹھے ہیں،سارے ادارے تو نیچے ہیں آرمی کنٹرول نہیں ہورہی، ماضی میں آرمی چیف کو رشوت دینے کی کوشش کی گئی، کیا ہم سمجھتے ہیں کہ آج یہ کوئی نیا نواز شریف آ گیا ہے جو میرٹ پر کام کرے گا یہ بالکل نہیں کرے گا،جو میرٹ پر ہے

اس کو آرمی چیف بننا چاہیے، پتہ ہے نواز شریف وہ چاہے گا وہ سمجھے گا جواس کی مدد کرے گا، اس کی چوری کیسے بچے گی۔انہوں نے اداروں کو تباہ کیا کیونکہ چوری کے پیسے کو بچانے کے لئے اداروں کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، اس کا مطلب اداروں کو تباہ کرنا ہوتا ہے، وائٹ کالر کرائم کو ہمارے کمزور ادارے نہیں پکڑ سکتے،نیب کے اوپر اپنا آدمی بٹھا دیا ہے وہ ملک کی بہتری کے لئے نہیں بلکہ ان کے کیسز کیسے ختم کرے گا، نیب کا قانون تبدیل کیا ہے جو بھی بڑا ڈاکو ہے وہ بچ جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ ادارے یہ سب کچھ روک سکتے ہیں لیکن یہ منصوبے کے تحت اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف نے کیا جرم کیا، اس کے ذریعے سارے صحافیوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ ہم نے ارشد شریف کے ساتھ یہ کیا ہے تمہارے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ مافیاز خوف پھیلا کر لوگوں پر حکومت کرتے ہیں، حقیقی آزادی کی تحریک خوف توڑنے کے لئے ہے، اعظم سواتی کو سلام کرتا ہوں وہ کھڑا ہو گیا وہ اس لئے کھڑا ہو گیا کیونکہ وہ قوم کو بچانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مارچ میں میرے لئے نہیں بلکہ ملک کے لئے اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے شرکت کریں،

اگر خود دار قوم بن کر رہنا ہے، سبز پاسپورٹ والوں کو الگ قطار میں کھڑا کر کے برا بھلا کہا جائے اس سے جان چھڑانی ہے تو اپنے حقوق اور آزادی کے لئے جدوجہد کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں عوام کا مشکور ہوں جو دھمکیوں کے باوجود باہر نکلی ہے، قوم کے پاس کبھی کبھی موقع آتاہے وہ اپنی تقدید بدل سکے، قوم میں شعور آ گیا ہے، یہ جاگی ہوئی قوم ہے، ظلم کے سامنے جھکنا نہیں ہے، آج خوف پھیلایا جارہا ہے اس سے ڈرنا نہیں ہے۔میرا مشن قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے ہے۔ میرا ایمان ہے میرے اللہ نے اس مشن کوپورا کرانا ہے، ہم نے مافیاز کا مقابلہ کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



موسمی پرندے


’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…