اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

سارہ قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ضمانت خارج ہونے پر گرفتار

datetime 19  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد پولیس نے سارہ انعام قتل کیس میں ضمانت خارج ہونے پر مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کو گرفتار کرلیا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں سماعت کے موقع پر ایڈیشنل سیشن جج سہیل شیخ نے ملزمہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کی۔ملزمہ ثمینہ شاہ سماعت کے دوران عدالت میں اپنے وکلا کے ہمراہ، کیس کا تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت اور

مدعی کے وکیل را ئوعبد الرحمن عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔مدعی کے وکیل نے مقف اختیار کیا کہ ثمینہ شاہ اپنے بیانات کی زد میں آکر ملزمہ نامزد کی گئیں، تمام بہانے قانون کی نظر میں بے معنی ہیں۔وکیل نے کہا کہ ملزمہ بھاگ نہیں سکتیں، انہیں قتل کے حوالے سے معلوم ہوگیا تھا۔را ئوعبد الرحمن نے عدالت میں کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمہ ثمینہ شاہ کو مزید ضمانت نہیں دی جانی چاہیے، ساتھ ہی استدعا کی کہ ملزمہ ثمینہ شاہ کی مزید ضمانت قبل از گرفتاری خارج کی جائے۔عدالت نے ملزمہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کردی، جس کے بعد تھانہ شہزاد ٹائون کی پولیس نے ملزمہ ثمینہ شاہ کو کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار کرلیا۔اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اس سے قبل 27 ستمبر کوملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی طرف سے اپنی بہو کے قتل اور بیٹے کی گرفتاری کے تین بعد درخواست ضمانت پر ابتدائی طور پر عبوری ضمانت منظور کی تھی، جس میں بعد میں توسیع کی جاتی رہی۔خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نے 23 ستمبر کو معروف صحافی ایاز امیر کے بیٹے کو اپنی کینیڈین شہری بیوی کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے ایک روز بعد اس کیس میں معروف صحافی کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ ان کی اہلیہ کی عبوری ضمانت منظور کی گئی تھی۔پولیس نے بتایا کہ 22 ستمبر کی رات کسی تنازع پر جوڑے کے درمیان سخت جھگڑا ہوا تھا، بعد ازاں جمعہ کی صبح دونوں میں دوبارہ جھگڑا ہوا جس کے دوران ملزم نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر سر پر ڈمبل مارا۔اس کے نتیجے میں خاتون کو گہرا زخم آیا اور وہ بیہوش ہوکر فرش پر گر گئیں تاحال اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ خاتون کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی یا ڈوبنے سے ہوئی کیونکہ سر پر چوٹ کے بعد وہ باتھ ٹب میں گری تھیں اور ملزم نے پانی کا نل کھول دیا تھا۔شاہنواز امیر کے خلاف اسلام آباد کے چک شہزاد تھانے میں اسٹیشن ہاس افسر (ایس ایچ او)نوازش علی خان کی شکایت پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (قتل کی سزا)کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…