جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

میڈیا کوپابندبنانے کے الزامات پر تحریک انصاف کا موٴقف سامنے آگیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعا ت و نشریات فوا د چوہدری نے کہا ہے کہ پی ایم ڈی اے پر ابھی تک تجاویز ہیں، اگر تجاویز منظور ہوگئیں تو ٹھیک، ورنہ اسے تبدیل کریں گے،ہمارے آئیڈیاز پر اتفاق نہ ہوا تو اسے کبھی نہیں لائیں گے، میڈیا، حکومت پر مشتمل 8 رکنی کمیشن ہونا چاہیے۔ بدھ کو یہاں تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، سینیٹر عرفان صدیقی، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، طاہر بزنجو اور وزیر مملکت فرخ حبیب نے اظہار خیال کیا۔فواد چوہدری اجلاس میں پی ایم ڈی اے پر حکومتی موقف رکھنے کے بعد چلے گئے، وفاقی وزیر کے اس اقدام کو اپوزیشن سینیٹرز نے غیر مناسب قرار دیا۔وزیر اطلاعات نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ ہم نے غیرملکی فریم ورک فالو کیا اور تمام فریقین سے کہا ہے کہ وہ اپنی رائے دیں۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی اے پر ابھی تک تجاویز ہیں، اگر تجاویز منظور ہوگئیں تو ٹھیک، ورنہ اسے تبدیل کریں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے آئیڈیاز پر اتفاق نہ ہوا تو اسے کبھی نہیں لائیں گے، ہم نے تجویز دی ہے کہ میڈیا، حکومت پر مشتمل 8 رکنی کمیشن ہونا چاہیے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے اجلاس میں گفتگو کے دوران کہا کہ تحریک انصاف تو میڈیا فرینڈلی تھی، میڈیا کے ساتھ اس طرح تو مارشل لا میں بھی نہیں ہوا۔اس پر چیئرمین کمیٹی

فیصل جاوید نے کہا کہ وزیراعظم کسی صورت بھی آزادی اظہارپر پابندی نہیں لگائیں گے، عمران خان میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پی ایم ڈی اے پر صحافی اداروں، تنظیموں سمیت اپوزیشن کے تحفظات ہیں۔انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کا اس طرح سینیٹ کمیٹی کے اجلاس سے چلے جانا مناسب نہیں،

وزیر اطلاعات کو ہماری بات بھی سننا چاہیے تھی۔پی پی سینیٹر نے کہا کہ گزشتہ 3سالوں میں بالخصوص میڈیا کو نشانہ بنایا جارہا ہے، حکومتی رویے سے لگ رہا ہے قانون بن چکا لیکن چھپایا جارہا ہے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رکن طاہر بزنجو نے کہا کہ صدارتی خطاب کے دوران پریس گیلری بند کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ

وزیراطلاعات کی رائے کہ وہ لاعلم تھے، یہ ٹھیک نہیں ہے، پی ٹی آئی مانے یا نہ مانے ملک آمریت، فاشزم کی طرف دھکیلاجارہا ہے۔سینیٹ کمیٹی کے رکن نے کہا کہ جب صحافی کہتے ہیں کہ جبری گمشدگیاں ختم ہونی چاہئیں تو کیا یہ غلط مطالبہ ہے؟اْنہوںنے کہاکہ عالمی اداروں اور ہماری متفقہ رائے ہے اسلام آباد صحافیوں کے لیے خطرناک جگہ ہے،

حکومتی نیت صاف تھی تو تمام فریقین کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔طاہر بزنجو نے استفسار کیا کہ پی ایم ڈی اے اتنا اچھا ہے تو سب لوگ اسے کالا قانون کیوں کہہ رہے ہیں؟فرخ حبیب نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ صحافیوں کا جرنلسٹس پروٹیکشن بل 3 ماہ سے قومی اسمبلی میں پڑا ہے، بل انسانی حقوق کمیٹی میں ہے، جس کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے وہ بل اسی قومی اسمبلی کے اجلاس میں آجائے گا، اٹھارویں ترمیم کے بعد امن و امان صوبائی معاملہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…