پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

جج سزائے موت سنانے کے بعد پین کی نب کیوں توڑدیتا ہے؟ ایسا سوال جس کا جواب آپ بھی ضرور جاننا چاہیں گے

datetime 4  اگست‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )عدالت میں جج جب کسی ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ دیتا ہے تو فیصلہ تحریر کرتے ہوئے اپنے پین کی نب بھی توڑ دیتا ہے، جج ایسا کیوں کرتے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے معروف جوابات ہم یہاں قارئین کی دلچسپی کیلئے

تحریر کرنے جا رہے ہیں۔ مجرم کو سزائے موت کے بعد جج کی جانب سے پین کی نب توڑنے کا رواج بھارت میں آج بھی قائم ہے جہاں آج بھی عدالت میں سزائے موت دینے کے بعد جج کی جانب سے پین کی نب توڑ دی جاتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں برطانوی راج سے شروع ہونے والی ججوں کی اس روایت کی کئی توجیہات پیش کی جاتی ہیں جن میں سب سے زیادہ زبان زدعام یہ روایت ہے کہ جج کی جانب سے سزائے موت کی سزا کے بعد پین کی نب اس لیے توڑی جاتی ہے کہ وہ پین جوکسی کی زندگی کے خاتمے کی وجہ بنےاب وہ پین کسی اوردوسرے کام کےلیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری معروف توجیہہ یہ ہے کہ جج اس لئے پین کی نب توڑ دیتا ہے کہ تاکہ اگر وہ کسی کو سزائے موت کی سزا سنادے اور لکھ دے تو پھر کوئی اس سزا کو تبدیل نہ کرسکے اور نہ ہی وہ اپنے حکم کی نظرثانی یا اس فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرسکے، اگر وہ چاہے بھی توبھی نہ کر سکے۔ عام روایت یہ بھی ہے کہ جب جج یہ سزا کسی مجرم کو سناتا ہے تو جج کی جانب سے پین کی نب توڑنا اس پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور آخری وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ جج پین کی نب اس لئے توڑ دیتا ہے کہ وہ مجرم کو سزائے موت دینے کے فیصلے پر نادم نہ ہو اور اسے کوئی پچھتاوا نہ ہو اس لئے وہ اس پین کی نب توڑ کر اسے ناقابل استعمال بنا کر اپنے دور کر دیتا ہے تاکہ یہ فیصلہ اسے کچھ یاد نہ دلائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…