ملک بھر میں فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع

  منگل‬‮ 20 اپریل‬‮ 2021  |  14:35

بہاولنگر ، اسلام آباد(این این آئی)ملک بھر میں فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کردی گئی ہے، دکانداروں نے فرانسیسی مصنوعات رکھنے اور فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ پاکستان میں فرانس کمپنی کے پٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوانے والوں کی تعداد بھی کم ہونا شروع ہوگئی ہے، مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے فرانس کیمصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل پر سرگودھا اور گردونواح میں بائیکاٹ مہم کا آغاز کردیا گیا ہے اور دکانداروں کی اکثریت نے فرانسیسی بسکٹ اور دیگر مصنوعات رکھنا اور فروخت کرنا بند کردیئے ہیں تاکہ نبی پاک ۖکی شان میں گستاخی کرنیوالے


ملک کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا جاسکے ،عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات خریدنے سے اجتناب کریں۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت اورکالعدم مذہبی جماعت کے درمیان طویل مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ٹوئٹر پر جاری اپنے وڈیو بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ حکومتی وفد اورمذہبی جماعت کے رہنماؤں کے درمیان یہ بات طے پائی ہے کہ قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کی جائے گی اورجماعت لاہور میں اپنے مرکز مسجد رحمت العالمین سمیت ملک بھر سے دھرنے ختم کردیگی۔شیخ رشید نے کہا کہ بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور جن لوگوں کیخلاف شیڈول فورتھسمیت مقدمات درج ہیں، ان کا اخراج کیا جائے گا۔علاوہ ازیں مذاکرات کرنے والے حکومتی وفد میں شامل پنجاب کے وزیرِ مذہبی امور پیر سعید الحسن شاہ نے کہاہے کہ کالعدم مذہبی جماعت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ نہیں کرے گی۔ ایک انٹرویومیں پنجاب کے وزیرِمذہبیامور پیر سعید الحسن شاہ نے بتایا کہ مذاکرات میں تمام مراحل کامیابی سے طے پا ئے، بریک تھرو میں کامیاب ہو گئے ہیں۔پیر سعیدالحسن شاہ نے کہا کہ مذاکرات کی تمام تفصیلات کچھ دیر میں سامنے آجائیں گی، ماہِ رمضان کی برکت سے ملک بڑے فتنے سے بچ گیا۔پنجاب کے وزیرِمذہبی امور کاکہنا ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان سمیت ملک کا ہر شخص ناموسِ رسالت پر قربان ہونے کا جذبہ رکھتا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎