شہزاد اکبر کے فرمائشی پروگرام کو بڑا دھچکا ، عظمیٰ بخاری کا حیران کن انکشاف

  جمعرات‬‮ 15 اپریل‬‮ 2021  |  2:14

لاہور( این این آئی)مسلم لیگ(ن) پنجاب کی سیکرٹر ی اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ نیب،ایف آئی اور اینٹی کرپشن کی انتقامی کاروائیوں کے باوجود مسلم لیگ(ن) متحد ہے،مسلم لیگ(ن) کو توڑنے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی ہے، شہبازشریف واحد وزیراعلیٰ ہیں جنہوںنے کبھی ٹی اے ڈی اے اور تنخواہیں نہیں لی،ان کی تمام تنخواہیںچیریٹی میں جاتی تھیں،شہبازشریف کے باہر آنے سے حکومت کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں،عمران خان مافیاز کے پیٹ بھرنے کیلئے نئے نئے پراجیکٹ شروع کررہے ہیں،شہزاد اکبر اربوں روپے کی کرپشن کے کاغذ لہراتے رہے لیکن نکلا گندا نالہ ہے،مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی


میاں نوید کو انتقامی سیاست کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں خواجہ عمران نزیر اور رکن اسمبلی میاں نوید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔عظمیٰ بخاری نے کہا مسلم لیگ (ن) کا شاہد ہی کوئی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی ہوگا جس پر نیب اور اینٹی کرپشن انتقامی کاروائی نہیں کررہی، ہمارے لوگ سیاسی انتقام بھگت رہے ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے مسلم لیگ (ن) ایک جگہ پر کھڑی اور متحدہے۔ شہباز شریف کو فاضل عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد شہزاد اکبر کے فرمائشی پروگرام کو بڑا دھچکا لگا ہے۔نیب اس وقت تمام اداروں کو سپرسیڈکرچکا ہے۔نیب تمام اداروں کی طاقت استعمال کررہا ہے اور سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اب تو جہانگیر ترین بھی یہی کہ رہے ہیں کہ وٹس ایپ گروپ پر یہ سب کچھ کرتے ہیں۔اب شہزاد اکبر اور عمران خان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ملک جل رہا ہے اور بنی گالہ کا شہزادہ سر کی بانسری بجا رہا ہے،ہم اس آگ پر پانی ڈالناچاہتے ہیں ، جنرل ہسپتال پر دھاوا بولا گیا، پولیس والوں پر تشدد کیا جارہا ہے۔آپ نے ان کے ساتھ لکھ کر ایک معاہدہ کیااس معاہدے پر سب نے دستخط کئے اگر معاہدہ اتنا غلط تھا تو اس پر دستخط کیوں کئے۔دنیا پوچھ رہی ہے کیا اس ملک میں کوئی حکومت ہے۔شاید حالات اسی لئے خراب ہیں کہ عثمان بزدار اس کی نگرانی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رمضان بازار میں ایک چینی کا ٹرک جاتا ہے اور لوگوں کوذلیل کرکے ایک کلو چینی دی جاتی ہے۔یہاں ملک جل رہا ہے لیکن کسی کو کوئی خیال نہیں ۔انہوں نے مزید کہاعمران خان نے کہا کہ چھوٹے لوگوں کو کوئی منہ نہیں لگاتا۔چھوٹے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اے ٹی ایم اور مافیاز پر چلتے ہیں ۔مافیاز کے پیٹ بھرنے کے لئےآپ نے یہ پرجیکٹ شروع کئے ہیں۔ڈھائی سال ہوگئے تو اب پوچھا جائے گا پچاس لاکھ گھر کہا ںہے تو اس لئے یہ ٹھپے لگا رہے ہیں۔پاکستان میں مہنگائی اٹھارہ اعشاریہ پینتالیس فیصد پر جاچکی ہے۔پولیس والے اور عوام مررہے ہیں عمران خان اور ان کے ترجمان نے ایک بیان نہیں دیا۔مکافات عمل بڑی دردناک چیز ہوتی ہے جو بوتے ہیں وہیکاٹتے ہیں۔ہم اس ملک کو خانہ جنگی سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔شیخ رشید نے تحریک لبیک پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔اس ملک میں جو آگ لگی ہے اس کو بجھائیں۔عثمان بزدار اپنے آپ کو ٹف ٹائم کیوں نہیں دے رہے۔انہوںنے کہا کہ نیب نے مجھے نہیں بلایا جب بلائیں گے تو جاؤں گی۔ پی ڈی ایم اپنی جگہ پر قائم ہے۔آٹھ جماعتیں اپنی جگہموجود ہیں۔ہمارے ساتھ جو جماعتیں چلیںگی ان کا بہت شکریہ۔جو ساتھ نہیں چل رہا وہ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش۔جو حکومتیں بنانے کے استعمال ہوتے ہیں ان کو سوچنا پڑے گا جو سلوک ہورہا ہے۔میاں نوید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا چار مہینے پہلے میرے اوپر ایف آئی آر درج کیگ ئی ،حکومت کا انتظامیہ پر دبائو ہے ، اسسٹنٹکمشنر پاکپتن نے ہمارے اوپر ایف آئی آر کروائی ہے،خاور بشیر نامی شخص اب اسسٹنٹ کمشنر پاکپتن نہیں ہے اب او ایس ڈی ہے،یہ دیہاڑی باز اے سی ہے اور لوگوں سے پیسے مانگتا ہے۔مجھے تھانہ سٹی پاکپتن لے جایا گیا جہاں ہم ڈیڑھ گھنٹہ ایس ایچ او کے سامنے بیٹھے رہے۔اے سی غلطی پر تھے تو ہم سے معافی مانگی ،ہم واپس گھر آگئےلیکن مجھے پتہ چلا میرے اور میرے والد پر ایف آئی آر کروادی گئی ۔میں (ن) کا ایم پی اے تھا اس لئے بادشاہ سلامت کو خوش کرنے کے لئے ایسا کیا گیا،میرا پٹرول پمپ سیل کردیا گیا ہماری ہربل فیکٹری سیل کردی گئی،دو دن بعد انہوں میری فلور ملز بھی بند کروادی ،نہ مجھے گندم خریدنے دے رہے ہیں نہ مجھے کوٹہ دیا جارہا ہے ،حکمرانوں کا یہ گھنائونا چہرہ ہے ان سے پکڑ دھکڑ کے علاوہ اور کچھ کیا نہیں جارہا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎