جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اللہ تیرا شکر!سندھ میں کورونا سے اموات کا سلسلہ تھم گیا دوسرا دن سکون سے گزرگیا، سندھ وزیراعلی کا زبردست اعلان 

datetime 13  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 366 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 583 افراد صحتیاب ہوئے اور کوئی بھی اموات رپورٹ نہیں ہوئی۔ منگل کے دن وزیراعلیٰ ہائوس سے عالمی وباکوویڈ19 سے متعلق جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 10176 نمونوں کی جانچ کی گئی

جس کے نتیجے میں 366 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ تشخیص  کی شرح کا 3.6 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مریض اس وبا کا شکار نہیں ہوا۔ اموات کی مجموعی تعداد 4530 ہے جوکہ اموات کی شرح کا  1.7 فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ابتک 3415608 نمونوں کی جانچ کی جا چکی ہے اور 269839 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 583 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں جس سے صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 258533 ہوچکی ہے جو کہ بحالی کی شرح کا 95.8  فیصد ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اس وقت 6776 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 6439 اپنے گھروں میں قرنطینہ ہیں،12 آئسولیشن سینٹرز  میں ہیں اور 325 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 298 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جن میں سے 39 مریضوں کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 366 نئے کیسز میں سے 206 کا تعلق شہر کراچی سے ہے، جبکہ  ضلع وار اعداد و شمار اس طرح ہیں ضلع شرقی  99،ضلع جنوبی  42، حیدرآباد میں 33، ٹنڈو محمد خان میں 26 ، ضلع وسطی  25 ، کورنگی ، ملیر اور میرپورخاص میں 15-15،  دادو اور نوابشاہ میں 13-13، بدین میں11 غربی کراچی میں 10،  نوشہروفیروز اور ٹھٹھہ میں 9-9، عمرکوٹ میں 8 ، سجاول میں 4، جیکب آباد اور  گھوٹکی میں 2، خیرپور اور شکارپور میں ایک ایک  نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کی عوام پر زور دیا کہ احتیاطی تدابیر اور کوویڈ19 سے متعلق ایس او پیز پر عمل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…