جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پی ڈی ایم کے تکون قیادت کی’’ علالت ‘‘ کی اصل وجہ ’’ عدالت‘‘ ہے، مولانا فضل الرحمان کس کے ہاتھوں ماموں بن گئے، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 9  اپریل‬‮  2021 |

کوئٹہ/کراچی ( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی اصل تکون لیڈر مولانا فضل الرحمن، نوازشریف اور مریم نواز کی علالت کی اصل وجہ عدالت ہے، چپ کا روزہ ’’اُن‘‘ کے سامنے ’’سرنڈر ‘‘ کرنے کا واضح پیغام ہے۔ وہ جمعہ کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع

العلوم میںمیڈیا کے نمائندوں اور مختلف وفود سے گفتگو کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تکون قیادت اپنی ناگفتہ بہ علالت اور اس کی آڑ میں عیادت کے بہانے چند کاروباری افراد کے ذریعہ ’’اُن‘‘ سے اپنے اپنے معاملات طے کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے لیے 26 مارچ کے مجوزہ ’’رینٹل مارچ‘‘ کو ملتوی کر نا ضروری تھا اس لیے ’’تکونی سازش ‘‘ کے تحت ’’لانگ مارچ ‘‘کو استعفوں سے نتھی کیا گیاتاکہ تمام ملبہ پیپلزپارٹی کے سر تھوپ دیا جائے لیکن شاہد خاقان عباسی کے شوکاز نوٹس نے پیپلزپارٹی سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی کو زد میں لے لیا، مولانا کو ماموں بنانے والے دو بچوں نے آخرکار پی ڈی ایم کو بے حال کرکے بھی اس کے نمائشی صدر کا حال تک نہیں پوچھا اس صدمے سے پی ڈی ایم سربراہ نے خود کو احتجاجاً ’’قرنطینہ‘‘ کردیا،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اب اس پرُ فریب نام نہاد اتحاد کے ’’قرنطینہ ‘‘ سے نکل کر واپس جے یو آئی پاکستان میں آجائیں شاید ان کی طبیعت میں بہتری آسکے ورنہ یہاں باپ اور بچے ان کو کہی کا نہیں چھوڑیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کا ابھی جو حشر ہوا ہے وہ تو ہونا ہی تھا لیکن اس وقت جو صورتحال مولانا فضل الرحمن کی ہے وہ انتہائی قابل رحم ہے، میاں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کا کندھا استعمال کرکے

بیماری کا ڈرامہ کیا اور لندن چلے گئے اور پھر لندن میں بیٹھ کر مولانا فضل الرحمن کے ذریعے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھول گئے تھے کہ پیپلز پارٹی میں ایک زرداری سب پر بھاری موجود ہے اور پھر زرداری نے ’’زر‘‘ اور ’’زور‘‘ کے ذریعے پی ڈی ایم سے اپنی مرضی کے فیصلے

منوائے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مفاداتی اور اقتداری لڑائی میں مولانا فضل الرحمن اور جے یو آئی کے مخلص کارکنوں کو استعمال کیا گیا جس کا خمیازہ وہ ابھی بھگت رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ باپ نے تو لندن سے بیٹھ کر کندھا استعمال کیا لیکن یہاں بڑے جلسے میں کھڑے ہوکر بیٹی نے فزیکلی طور پر کندھا

استعمال کرکے دنیا کو دکھا دیا کہ ’’پیسہ پھینک تماشہ دیکھ‘‘ کے ذریعے کیسے کسی کا کندھا استعمال کیا جاسکتا ہے، حافظ حسین احمد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ڈی ایم سربراہ کو شاید ماموں بننے کا شوق ہے اس لیے وہ بار بار ماموں بن رہے ہیں یا پھر ان کی سیاسی بصیرت ختم ہوچکی ہے کہ ان کو کل کے دو بچے ماموں بنا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…