اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

مریم نواز کی لندن روانگی کے لیے جنرل مشرف دور کے ”جدہ ماڈل“کو دوبارہ آزمانے کا فیصلہ،اس بار رفیق الحریری کی جگہ کس مہرے کو استعمال کیا جائے گا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 7  اپریل‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوئٹہ/اسلام آباد/کراچی(آن لائن) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما سابق ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ غالباً پی ڈی ایم کی ناگفتہ صورتحال نے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ کو ”قرنطینہ“ پر مجبور کردیا ہے حالانکہ نہ صرف مولانا فضل الرحمن بلکہ محترمہ مریم نواز کا کرونا ٹیسٹ منفی آچکا ہے اس لیے

رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی مولانا فضل الرحمن اور محترمہ مریم نواز نے ”چپ کا روزہ“ ایسے ہی نہیں رکھا ہے۔ وہ بدھ کے روز مختلف ٹی وی چینلز اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے مقدمات سے بچنے اور بیماری کا بہانہ بنا کر لندن فرار ہونے کے لیے مولانا فضل الرحمن کے ذریعے جے یو آئی کے مخلص جانثاروں کو آزادی مارچ میں استعمال کیا اور ڈاکٹرعدنان کے ذریعے فریب کاری کرکے لندن سدھار گئے اور پھر مریم نواز کو بلاکر برطانیہ میں پورے خاندان کی تکمیل کی کوشش کے لیے وہی انداز اپنانے کی کوشش کی گئی مگر ”دال نہیں گلی“ تو اب جنرل مشرف دور کے ”جدہ ماڈل“ کو دوبارہ آزما نے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اب رفیق الحریری کی جگہ ایک مضبوط کاروباری مہرہ استعمال کیا جائے گا اس لیے پی ڈی ایم کے شیرازہ کو بکھرنے کا فیصلہ بھی مستقبل کے ”لندن پلان“ کا ہی ایک طے شدہ حصہ ہے لیکن اس پورے ڈرامہ میں سب سے زیادہ نقصان جے یو آئی (ف)کو ہوا ہے اور یہی وہ خدشات تھے جس کی نشاندہی ہم نے اپنی پارٹی کے اداروں اور قیادت کے سامنے کی تھی، حافظ حسین احمد نے کہا کہ ہم نے مولانا فضل الرحمن کو کہہ دیا تھا کہ کرپشن کے سانڈوں کی لڑائی میں نہ کودیں تو ان کے لیے بہترہوگاکیوں کہ ہم ”شریف خاندان“ کی چالاکیوں اور تمام صورتحال کو بھانپ چکے تھے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…