جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں آپس میں ہی الجھ پڑیں‘‘ اپوزیشن لیڈر سینٹ یوسف رضا گیلانی نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 5  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد ( آن لائن )پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے سر براہ مولانا فضل الرحمن کی منظوری سے پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کو شو کاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ شو کازنوٹس میں دونوں جماعتوں کو 7 روز میں وجوہات بیان کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ۔ اظہار وجوہ کے نوٹسز سیکرٹری

جنرل پی ڈی ایم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے پی پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور اے این پی کو اسفندیار ولی کے نام سے بھجوائے گئے ہیں۔ شو کاز نوٹس میں اپوزیشن لیڈر کے لئے باپ کے سینیٹرز کی حمایت لینے اور پی ڈی ایم کے اصولوں کی خلاف ورزی پر جواب طلب کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق نوٹسز کے متن میں درج ہے کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے اقدام اپوزیشن اتحاد اور تحریک کو نقصان پہنچا ہے، ایسا اقدام کیوں کیا، وجوہات سے آگاہ کیا جائے۔دوسری طرف پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صدرپی ڈی ایم کی منظوری سے پیپلزپارٹی اور اے این پی کو شوکاز واٹس کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں جس میں پوچھا گیا ہے کہ آپ نے حکومتی بنچ سے لوگ لے کر اپوزیشن لیڈر کی کرسی حاصل کی ہے، یہ پی ڈی ایم کے بیانیے کے خلاف ورزی ہے ، اس حوالے سے فیصلہ پی ڈی ایم کا ہوگا، پیپلزپارٹی اور اے این پی کو جواب کے لیے 7 دن دیے ہیں، جو جواب آئے گا اسے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔پی ڈی ایم کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ نوٹس پر لکھا ہے کہ پی ڈی ایم اس نوٹس کو پبلک نہیں کرے گی البتہ دونوں جماعتیں چاہیں تو نوٹس کو پبلک کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ پی ڈی ایم نے ملتوی کیا ہے، پی پی کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ سی ای سی سے پوچھ کر بتائے وہ استعفے دے گی یا نہیں۔ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گیلانی کو اپوزیشن لیڈر نہ ماننے سے متعلق فیصلے پر نظرثانی نہیں ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سنیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ ہائو س میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک پی ڈی ایم نے ہمیں شوکاز نوٹس دئیے ہیں جس کا ہم نے جواب نہیں دیا، ہمارے جواب کے بعد جو صورتحال بنے گی اس پر رائے دیں گے، فی الحال ہم پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…