500 ملین ڈالر کی خاطر پاکستانی مالیاتی ادارں کوگروی رکھوایا جا رہا ہے، راستہ نہ روکا تو ہماری آنے والی نسلیں بھی آئی ایم ایف کی غلام ہو جائیں گی

  ہفتہ‬‮ 27 مارچ‬‮ 2021  |  21:12

ملتان (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) نے منی بجٹ اور ہائیر ایجوکیشن آرڈیننس عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آئی ایم ایف کی قسط کی خاطر پاکستانی مالیاتی اداریکوگروی رکھوایا جارہا ہے، آرڈیننس سے اسٹیٹ بینک پارلیمان کو جواب دہ نہیں رہے گا،پیپلز پارٹی نے بی اے پی، جماعت اسلامی اور اے اینپی کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنادیا ہے،عمران خان سے یہ نظام نہیں چل رہا، بدلہ اداروں پر حملے کرکے لیا جارہا ہے، اس شخص نے براڈ شیٹ کی فائلیں بھی غائب کرادیں۔میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری


احسن اقبال نے کہاکہ آج پورا پاکستان اس حکومت کی سزا کاٹ رہا ہے، 90 دن میں جنوبی پنجاب صوبہ بننا تھا، آج نام و نشان تک نہیں، ہم نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے سے متعلق ترمیمی بل 2 سال سے جمع کرارکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کو چلانے کیلئے 500 ملین ڈالر آئی ایم ایف سے لیے جارہے ہیں، آئی ایم ایف کی قسط کی خاطر پاکستانی مالیاتی ادارں کوگروی رکھوایا جارہا ہے، آرڈیننس سے اسٹیٹ بینک پارلیمان کو جواب دہ نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اس کا راستہ نہ روکا تو ہماری آنے والی نسلیں بھی آئی ایم ایف کی غلام ہو جائیں گی، احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان کی سالمیت پربہت کاری ضرب لگائی جارہی ہے، 900 ارب کا مالیاتی بل آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیاگیا، منی بجٹ کو پارلیمان سے پاس کرانا لازمی ہے۔لیگی رہنما نے کہاکہ ایوان صدر کو پاکستان آرڈیننس فیکٹری بنادیاگیا، پارلیمنٹ کو بلڈوز کرکے 900 ارب کے ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پر حملہ کیا گیا تاہم مسلم لیگ ن منی بجٹ اور ہائرایجوکیشن آرڈیننس کوعدالت میںچیلنج کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے بی اے پی، جماعت اسلامی اور اے این پی کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنادیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جو کیا اس پر ہمیں دکھ ہے، یوسف رضا گیلانی ن لیگ کے ووٹوں سے سینیٹر بنے تاہم پی پی نے حکومت سے ادھار سینیٹر لے کر اپوزیشن لیڈر بنایا۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ عمران خان سے یہ نظام نہیں چل رہا، بدلہ اداروں پر حملے کرکے لیا جارہا ہے، اس شخص نے براڈ شیٹ کی فائلیں بھی غائب کرادیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎