جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے صدارتی آرڈیننس آئی ایم ایف کی مرضی کا منی بجٹ کے مترادف ہے، تاجر پھٹ پڑے

datetime 21  مارچ‬‮  2021 |

فیصل آباد(آن لائن)تاجرادری نے بجلی کی قیمت میں اضافے اور نئے ٹیکسں کے آرڈیننس لانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے صدارتی آرڈیننس IMF کی مرضی کا منی بجٹ کے مترادف ہے اس صدارتی آرڈیننس کی آڑ میں بجلی کے نرخ بڑھا نے کیلئے اب نیپرا کووزیر اعظم اور انکی کابینہ

کی پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑیگی اور نیپرا جب چاہئے گابجلی کی قیمت میں اضافہ کر سکے گا ۔مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے سرپرست اعلی وصدر انجمن تاجران سٹی فیصل آبادخواجہ شاہد رزاق سکا ،جنرل سیکرٹری چوہدری محمود عالم جٹ اور سینئر رہنمائوںنے مہنگائی میں پھنسی قوم پر 884 ارب پے کی وصولی کیلئے وفاقی کابینہ کی جانب سے بجلی کی قیمت میں5.65 روپے بمعہ 17 فیصدسیلز ٹیکس7 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دینے پر گہری تشویش اور مذمت کی اور اللہ تعالی سے وزیر اعظم عمران خان اور انکی اہلیہ کی مکمل صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ انکی حکومت ملک میںہر طبقہ کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کے جس منصوبے پر علم پیرا ہے زمینی حقائق کے پیش نظر اس پریکٹس کوبند کیا جائے کیونکہ بار بار کئے جانے والے اضافہ سے عوام کی کمر ٹوٹ اور کاروباری سرگرمیاں نا پید ہوچکی ہے اسکے علاوہ مہنگی بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعا ت تجارتی و صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن میںرکاوٹ اور عوامی نفرت کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے بند کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ معاشی طور پر بد حال لوگوں پر ترس کھائیں مہنگائی میں ناقابل برداشت اضافہ اور آمدن

میں کمی سے لوگوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے اور حالات انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں اگر حکومت نے اس سلسلہ کو بند نہ کیا تو ملکی صنعت و تجارت تباہ اور روزگار ختم ہونے سے غریب عوام اپنے بیوی بچوں سمیت فاقہ کشی میںمبتلا ہو جائیںگے تاجررہنمائوں ے کہا کہ اقتدار نشہ میں چور حکمران جب سے اقتدار میں آئے ہیںمہنگائی کاعفریت بد مست ہاتھی بن چکاہے جو اپنے سامنے ہر شہ کو پامال کرتا چلا جا رہا

ہے اور اسے لگام ڈالنے والا کوئی نہیں ۔انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان اور آرمی چیف سے اپیل کی ملک میں بے قابومہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت تمام تر ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی جائے جو ملک وقوم کیلئے بے حد ضروری ہیںتاکہ لوگوںکو روز مرہ استعمال کی اشیاء خورد و نوش آٹا ، چینی ، گھی ، دودھ ،دالیں ، گوشت ، ٹرانسپورٹ ،بجلی گیس ، پٹرولیم مصنوعات ، صحت و تعلیم کے اخراجات اور تعمیر اتی میٹریل کی مہنگائی سے نجات مل سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…