اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

آصف زرداری نے تلخ باتوں کے بعد مریم نواز سے معذرت کرلی

datetime 16  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن )پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف زرداری نے شکوے شکایات اور تلخ باتوں پر مرکزی نائب صدر ن لیگ مریم نوازسے معذرت کرلی، جس پر مریم نواز نے کہا کہ میرا مقصد آپ سے معذرت کرانا نہیں تھا، میں نے آصفہ اور بختاور کی طرح آپ سے گلہ کیا، اس بات کو اب یہیں ختم کردیں۔ تفصیلات کے مطابق صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کی

زیرصدارت پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا، جس میں استعفوں، لانگ مارچ اور سیاسی صورتحال سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔اجلاس میں آصف زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے پی ڈی ایم سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تلخ باتیں اور نوازشریف پر تنقید کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار نہیں کہ جمہوری قوتوں نے دھاندلی کا سامنا کیا۔زندگی کے 14 برس جیل میں گزارے ہیں۔ زرداری نے نواز شریف سے مکالمہ کیا کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں، ہم نے سینیٹ انتخابات لڑے۔ سینیٹر اسحاق ڈار ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔۔ اجلاس میں مریم نواز نے آصف زرداری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں والد کی جان کو خطرہ ہے، وطن واپس کیسے آئیں؟ آصف زرداری گارنٹی دیں کہ میرے والد کی جان کو پاکستان میں خطرہ نہیں ہوگا۔جبکہ میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں۔ جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے ہی میاں صاحب بھی ویڈیو لنک پر ہیں۔ نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ ہے۔ میرے والد کو جیل میں دو ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود پی ڈی ایم کا ساتھ دیا۔ پیپلزپارٹی استعفوں کیخلاف تھی، جبکہ مسلم لیگ ن نے اتفاق رائے کیلئے آپ کی حمایت کی۔ بعدازاں آصف زرداری نے شکوے شکایات اور تلخ باتوں پر مریم نوازسے معذرت کرلی، جس پر مریم نواز نے کہا کہ میرا مقصد آپ سے معذرت کرانا نہیں تھا، میں نے آصفہ اور بختاور کی طرح آپ سے گلہ کیا، اس بات کو اب یہیں ختم کردیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…