بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب سے سینٹ امیدواروں کا بلا مقابلہ انتخاب، مریم نواز اپنے اُمیدواروں کو دستبردار کروانے کے حق میں نہیں تھیں، حامد میر کا حیران کن انکشاف

datetime 1  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اس تجویز پر عملدرآمد کے لئے ضروری تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے امیدوار دستبردار کراتیں۔روزنامہ جنگ میں شائع سینئر کالم نگار حامد میر اپنے کالم ’یہ کمپنی کیسے چلی گی ؟ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔چوہدری صاحب نے دونوں اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ قائم کیا۔ بہت بحث ہوئی۔ شکوے شکایتیں ہوئیں۔ پیپلز پارٹی مان گئی لیکن مریم نواز نہیں مانتی تھیں۔

مجھے مریم نواز نے خود بتایا کہ میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کو دستبردار کرانے کے سخت خلاف تھی لیکن جب پارٹی کے سینئر لوگوں نے اصرار کیا تو میں نے اُن کی بات مان لی۔ مسلم لیگ (ن) کے ان سینئر لوگوں کے ساتھ تحریک انصاف کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اگر کوئی رابطہ تھا تو وہ چوہدری پرویز الٰہی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی پنجاب میں سینیٹ کے تمام امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا اعلان ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس کا کریڈٹ چوہدری صاحب کو دیا اور تحریک انصاف کے سینیٹر ولید اقبال نے بھی اس کا کریڈٹ چوہدری صاحب کو دیا۔ چوہدری صاحب کو ملنے والا یہ کریڈٹ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ انہوں نے یہ کریڈٹ اپنے نام لگوانے کے لئے بڑے جتن کئے۔ بات نہ بنی۔ پھر ایک کالم لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ ’’ولید اقبال کا یہ کہنا کہ پنجاب میں بلا مقابلہ سینیٹرز منتخب ہونے کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو جاتا ہے، قطعاً درست نہیں۔ یہ کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ہے‘‘۔ میں نے یہ کالم نہیں پڑھا تھا۔ لاہور سے ایک دوست نے فون کرکے توجہ دلائی کہ ’’یہ کالم پڑھئے، اس میں کچھ الفاظ آپ سے بھی منسوب ہیں‘‘۔ کالم پڑھ کر میں نے چوہدری پرویز الٰہی سے بات کی تو وہ ہنسنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کے ارکانِ پنجاب اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو ملنے سے انکار کرنا شروع کیا تو وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نے مجھے بار بار فون کیا اور کہا کہ آپ کچھ کریں۔ چوہدری صاحب نے پوچھا کہ یہ کالم کس نے لکھا ہے؟ میں نے بتایا کہ ابھی پچھلے ہی مہینے وزیراعلیٰ پنجاب نے مجلسِ ترقی ادب کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر تحسین فراقی کو ہٹا کر وہاں اپنے ایک منظورِ نظر کو تعینات کیا ہے جن کو ایک سال کا کنٹریکٹ ملا ہے اور آپ کے خلاف یہ کالم اسی کنٹریکٹ ملازم نے لکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…