بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’’ہمیں ضرورت نہیں کہ ہم سب بچوں کے ماں باپ بن جائیں‘‘ فواد چودھری نے لڑکیوں پرجینز پہننے کی پابندی کی مخالفت کردی‎

datetime 17  فروری‬‮  2021 |

راولپنڈی( مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن ) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ہمیں ضرورت نہیں ہم سب کے بچوں کے ماں باپ بن جائیں، عبایا لینے والے عبایا لیں، جینز پہننے والے جینز پہنیں، ہمیں کسی پر پابندی نہیں لگانی چاہئیے۔راولپنڈی کی نجی یونیورسٹی میں انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ٹیکنالوجی کو

عدالتوں کی وجہ سے دھچکا لگا۔قوفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ملک میں ٹیکنالوجی کو سب سے زیادہ جھٹکا عدلیہ سے لگاہے، 2014 کے عدالتی فیصلوں سے یو ٹیوب بھارت شفٹ ہوگئیں۔ جہاں ملتا ہوں ججز کو ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں ٹیکنالوجی کے کیسز نہ سنا کریں۔راولپنڈی میں سیمینار سے خطاب کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیا میں انقلاب آگیا ہے زیادہ میڈیا یوٹیوب پر آچکا ہے، گزشتہ ڈھائی سال میں ہمارا میڈیا یونیورسٹی چینلز، ٹوئٹر اور فیس بک کی جانب تیزی سے بڑھا، پاکستان میں صحافت کی تعلیم کے 43 ادارے ہیں ان کے نصاب کی تجدید کی ضرورت ہے۔ ہمیں مستقبل کی مارکیٹ پر نظر رکھنی ہے، یہ ممکن نہیں کہ یونیورسٹی سے ڈگری لیں اور پتہ چلے اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ پابندی کے کلچر نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے،ا نفرادیت اور انفرادی سوچ کو ختم نہیں کرنا چاہیے، بے روزگاری غیر ملکی سرمایہ کاری سے ختم ہوگی، سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوسکتے مختلف اقسام کی سوچ ترقی کی علامت ہوتی ہے۔ لوگوں پر اپنی سوچ تھوپنے سے سوسائٹی تباہ ہو جاتی ہے یاست ہر چیز ریگولیٹ نہیں کر سکتی، یا کرنا ہے اس کا فیصلہ انفرادی طور پر بھی کرنے دیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بیروزگاری تب ختم ہو گی جب بیرونی سرمایہ کار پاکستان آئے گا، یوٹیوب، فیس بک اور گوگل صرف ایپلی کیشنز نہیں بلکہ اب ملک بن چکے ہیں جن پر بہت سرمایہ کاری ہے، ایپل کا بجٹ کئی ممالک کے بجٹ سے زیادہ ہے، واٹس ایپ 22 بلین ڈالر کی کمپنی ہے، یہ بڑی کمپنیاں جس ملک میں جاتی ہیں وہاں ترقی ہوتی ہے، ہم نے ٹک ٹاک بند کر دیا۔ ہمیں بھی ان سے ملکوں کی طرح رابطے رکھنے چاہیے، بدقسمتی سے ٹیکنالوجی کو سب سے زیادہ جھٹکا عدلیہ سے لگا، 2014 کے عدالتی فیصلوں سے یو ٹیوب بھارت شفٹ ہوگئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…