بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

حملے کے دوران مجھے چیف جسٹس آف پاکستان کا فون آیا کہاگیا آپکو نکال کر آپریشن کیا جائیگالیکن منع کردیا کیونکہ۔۔۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اہم انکشافات

datetime 15  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالت پر حملے میں ملوث وکلا کو مثالی سزا ملنی چاہیے۔پیر کو ہائی کورٹ میں وکلا حملے سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سہیل اکبر چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی

استدعا کی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سب کس نے کیا، اس کے لیے کسی کمیشن کی ضرورت نہیں، جنہوں نے ہائیکورٹ پر حملہ کیا ان کی نشاندہی بار کرے تاکہ کسی بے قصور کو ہراساں نا کیا جا سکے، ہائی کورٹ پر حملہ کرنے والے سارے بار کے وکلا تھے آدھے سے زائد کو میں جانتا ہوں، جنہوں نے پانچ گھنٹے ججز کو یرغمال رکھا وہ اس انتہائی گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، یہ واقعہ بالکل غلط ہوا ہے اس میں ملوث لوگوں کو مثالی سزا ملنی چاہیے، چیف جسٹس آف پاکستان کا بھی فون آیا تھا، مجھے کہا گیا کہ کارروائی کے لیے تیار ہیں، لیکن میں نے چیف جسٹس پاکستان کو بھی بتایا کہ کوئی ایکشن لے کر ہائی کورٹ کو میدان جنگ نہیں بننے دوں گا، میں نے کہا کہ آپ آئیں اور آ کر بے شک مجھے مار دیں مگر ایکشن لے کر اس کو تماشہ نہیں بناؤں گا، ایک سو لوگوں کے ایکٹ کی وجہ سے بار کی عزت داؤ پر ہے، سب لوگ یونیفارم میں تھے بار کی بھی عزت اس میں ہے کہ ان

لوگوں کی نشاندہی کریں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وکلا کی میڈیا سے بدتمیزی پر بھی اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا والوں کو مارا گیا اور ان کی ویڈیوز بھی ڈیلیٹ کرائی گئیں، یہ رویہ بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا، آپ کو معلوم ہے کہ وہ پلاننگ کے ساتھ آئے تھے اور باہر

میڈیا والوں کو مارا اور وڈیوز ڈیلیٹ کی ہیں، عدالت پہلے ہی ہدایات جاری کر چکی ہے کہ صرف ان وکلا کے خلاف کارروائی کریں جو واقعہ میں ملوث ہیں، جن وکلا پر صرف شبہ ہے ان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے، چیف جسٹس کو پانچ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا

مگر میرا کوئی غصہ نہیں ہے، جے آئی ٹی نے رپورٹ دی ہے کہ وکلا اور بار ان سے تعاون نہیں کر رہے، اس وقت ذمہ داری بارز کی ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے بار کے صدر اور آپ سیکرٹری کو بے بس دیکھا، اگر ایسا کسی سیاسی جماعت کے لوگوں نے کیا ہوتا تو ریاست ان

کے ساتھ کیا کرتی؟، مجھ کو جب یرغمال رکھا گیا تو میں اس کے لیے بھی تیار بھی تھا کہ زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے مار دیں گے۔شیر افضل ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت عالیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ہم سب کو دکھ ہے۔چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ صرف میرا ایشو

نہیں، آٹھ دیگر ججز کو بھی محصور رکھا گیا، یہ ادارے کا معاملہ ہے۔ وکیل راجہ رضوان عباسی نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ ہم سب بہت شرمندہ ہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا اگر مگر نہیں چلے گا قانون اپنا رستہ خود بنائے گا۔عدالت نے ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری سہیل چوہدری کو ملوث ملزمان کی نشاندہی کی ہدایت کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…