بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا پاکستانی چارلی چپلن صرف 2مہینوں میں ٹک ٹاک فالورز کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ

datetime 14  فروری‬‮  2021 |

پشاور (اے ایف پی)خیبر پختونخوا کے شہرمیں چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا پاکستانی چارلی چپلن کی صرف دو ماہ میں ٹک ٹاک پر مداحوں کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں ٹریفک کے ہجوم میں رکشوں، بسوں اور

موٹر سائیکلوں سے بچتا بچاتا آپ کو ایک ”پاکستانی چارلی چپلن” نظر آتا ہے۔ عثمان خان سڑک کنارے کھلونے بیچتے تھے لیکن کورونا کی وبا آنے کے بعد انہوں نے بو ٹائی لگاکر، سر پر کالا ہیٹ پہن کر اور ہاتھ میں چھڑی پکڑ کر خود کو 1920 کی خاموش فلموں کے کامیڈین چارلی چپلن کے روپ میں ڈھال لیا ہے۔عثمان خان کا کہنا ہے کہ ”لاک ڈائون کے دوران لوگ پریشان تھے،میں چارلی چپلن کی فلمیں دیکھتا تھا اور پھر میں نے سوچا کہ میں چارلی چپلن کی طرح بنوں گا۔” وہ چارلی چپلن کے حلیے میں اپنے دوستوں کے ساتھ گھر سے نکلتے ہیں جو کہ ان کی ویڈیو بناتے ہیں اور ان کا مقصد ان کٹھن حالات میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ہوتا ہے۔وہ اصل چارلی چپلن کی طرح کبھی ٹیبل ٹینس کھیلنے والوں کے گیند پر چھڑی مار کر ان کا کھیل خراب کرتے ہیں اور خود کو مصیبت میں ڈالتے ہیں اور کبھی دکانوں کے باہر پڑے سامان کو چھیڑ کر دکانداروں کا غصہ مول لیتے ہیں، لیکن بچے ان کی حرکتوں سے بہت محظوظ

ہوتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ خاموش کامیڈی سے لوگوں کو ہنسانا اور ان کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔صرف دو ماہ میں ٹک ٹاک پر ان کے مداحوں کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد ہوچکی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے لوگ ان کی اس کاوش کو سراہ رہے ہیں۔ عثمان خان

کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ٹی وی پروڈیوسرز ان کو کام دیں گے اور اگر وہ امیر ہوگئے تو غریبوں کی مدد کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ کھلونے بیچنے سے گزر بسر نہیں ہوتی جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو اپنے مسائل پیچھے چھوڑ کر لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…