بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ٰ6.4 شدت اور 20 سیکنڈز کے زلزلے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 12  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان بھر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 6.4 ریکارڈ کی گئی،اس زلزلے کا دورانیہ 20 سیکنڈ تھا لیکن اس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور انڈیا سمیت مختلف ملکوں میں زلزلے

کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، سوات، مظفر آباد، لوئر دیر، بھلوال، ملتان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، بھکر، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت ملک بھر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ اس زلزلے کے آفٹر شاکس بھی آ سکتے ہیں، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 80 کلومیٹر جبکہ مرکز تاجکستان اور افغانستان کی سرحد تھی۔واضح رہے کہ ملک بھر میں لوگ کلمے کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔زلزلہ اتنا شدید تھا کہ در و دیوار ہل گئے، ابھی تک کہیں سے زلزلے سے نقصان کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے

سے آتا رہتا ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…