بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

لوگ اپنے بچوں کو زرداری یا نوازشریف نہیں بلکہ عمران خان بنانا چاہیں گے، حیرت انگیز دعویٰ

datetime 6  فروری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو زرداری یا نوازشریف نہیں بلکہ عمران خان بنانا چاہیں گے، کسی کو مایوسی دیکھنی ہے تو وہ مولانا فضل الرحمان کی تصویر دیکھ لے،مریم نواز اور بلاول بھٹو کی آنکھوں سے بھی مایوسی جھلک رہی ہے، پی ڈی ایم کو سمجھ نہیں آرہی کہ

انہیں کرنا کیاہے، پی ڈی ایم حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش نہ کرے، حکومت کو آپ دیوار سے نہ لگائیں وہ آپ کو نہیں لگائے گی، مریم نواز کا اپنی پارٹی میں اتنا بڑا قد نہیں ، استعفے ایوان میں پہنچنے پرلیگی ارکان اسپیکر کے پائوں میں بیٹھ گئے،اپوزیشن سے رابطے تو رہتے ہیں ،رابطے کرنے والے پتہ نہیں مریم کو بتاتے بھی ہیں یا نہیں ،لندن کی عدالت اب ڈیلی میل کیس کو آگے بڑھائے گی ،ابھی عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔اداکارشان سے ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جن کی وجہ سے آج پاکستان کو یہ دن دیکھنا پڑرہاہے وہ ہمیں آج مشورے دے رہے ہیں، پی ڈی ایم کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ، مریم نواز اور بلاول بھٹو بتائیں وہ ایسا کیا کریں گے جو پچھلے تیس سال میں نہیں کرسکے، ان کی کوشش ہے عدالتوں سے انہیں ریلیف مل جائے۔وفاقی وزیر فوادچوہدری نے کہا کہ وفاق نے 16 سو ارب روپے کراچی کے لئے دیا لیکن پتہ نہیں وہ پیسہ کہاں لگایا گیا، پیپلزپارٹی اندرون سندھ کی پارٹی بن گئی ہے، آصف زرداری نے پارٹی کا بیڑہ غرق کردیا ہے، وہ کام ضیا ء الحق نہ کرپائے جو پارٹی کے ساتھ زرداری نے کیا، مسلم لیگ (ن)بھی ختم ہو گئی ہے، مشورہ ہے کہ سب مل کر مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ایک پارٹی بنا لیں،گھوڑا بھی حاضر ہے اور

میدان بھی حاضر ہے مولانا آئیں اور انتخابات میں حصہ لیں ۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے لئے چھوٹا سا ٹینٹ تو ہم ہی لگوا دیں گے ۔انہوںنے کہا کہ جن لوگوں کی وجہ سے مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ ہمیں بتا رہے ہیں،پارلیمنٹ کی تحقیر کرنے کے بعد اسی اسمبلی سے یہ سینیٹ کے ووٹ کی بھیک مانگ رہے ہیں،حکومت

اپوزیشن کو دیوار سے نہیں لگانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمالہ طارق والے حادثے کا وفاقی کابینہ نے نوٹس لیا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے رابطے تو رہتے ہیں ،رابطے کرنے والے پتہ نہیں مریم کو بتاتے بھی ہیں یا نہیں ،مریم بی بی کا پارٹی میں کوئی بڑا قد نہیں، مریم بی بی کی بات تو کوئی پارٹی میں بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا،پی

ڈی ایم مولانا کے مدرسے کے بچوں کے ذریعے احتجاج کرنا چاہتی ہے ،پی ڈی ایم فرقہ واریت پر مبنی جماعتوں کو ساتھ ملانا چاہتی ہے۔انہوںنے کہا کہ حکومت پنجاب نیا حکومتی انقلاب لائی ہے جس پر یہ مبارکباد کے مستحق ہے،حکومت با اختیار قانون لائی ہے ،بلدیاتی انتخابات ہوںگے، ان سب کو چاہیے کہ الائنس کے بجائے ایک

ہوجائیں، ایک نئی پارٹی بن جائے پھر مقامی حکومتوں کے انتخابات لڑیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام سے پوچھتا ہوں کہ کون اپنے بچوں کو زرداری یا نوازشریف بنانا چاہے گا،عوام اپنے بچوں کو عمران خان بنانا چاہیںگے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم والوں کو عدالتوں سے انہیں این آر او مل نہیں پا رہا ۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف اور ان سب کو

صحت  دے ،ہمیں کسی کو جیل میں ڈالنے کا شوق نہیں ، ان کے خلاف کیسز کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، باہر سے پیسے لے آئیں اور جیلوں سے باہر آجائیں۔فوادچوہدری نے دعوی کیا کہ 500 ارب روپے کی ریکوری تو ہوگئی ہے اوربیرون ممالک گیا ہوا پیسہ وہاں کے لوگ استعمال میں لاتے ہیں اس لیے وہ ممالک ان کے دفاع کے لیے آجاتے ہیں، پوری کوشش کر رہے ہیں وہ پیسہ باہر سے لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ لندن کی عدالت اب ڈیلی میل کیس کو آگے بڑھائے گی ،ابھی عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…