بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بی آرٹی منصوبہ، تحقیقات پر عمران خان کی خاموشی معنی خیز سینئر تجزیہ کاروں نے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھا دئیے

datetime 4  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی ، آن لائن)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئرتجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات پر عمران خان کی خاموشی معنی خیز ہے۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ بلاامتیاز احتساب کی حامی تحریک انصاف بی آر ٹی کی آزادانہ تحقیقات

سے خوفزدہ ہے، آزادانہ ٹرائل ہوگئے تو بی آر ٹی سے جڑے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، کیوں یہ منصوبہ جلد بازی میں شروع کیا گیا، سنگین نوعیت کی کیا کوتاہیاں کی گئیں، کس کس نے گھپلے کیے اور کس کس کو نوازا گیا، 50ارب کا منصوبہ 70ارب تک کیسے پہنچا، مشکوک کمپنیوں کو ٹھیکے کیسے ملے، وہ غیرملکی کون ہیں جنہیں منصوبے کی ڈیزائننگ کیلئے ایک ارب دیا گیا مگر پھر بھی ڈیزائننگ ٹھیک نہیں ہوسکی۔بینظیر شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے تھے سب سے پہلے طاقتور کا احتساب ہونا چاہئے ،تحریک انصاف کی حکومت ہے اس لئے پہلے اس کا احتساب ہونا چاہئے ،بی آر ٹی منصوبے میں کرپشن، نااہلی اور بدعنوانی کے ساتھ بڑے لوگوں کے نام ہیں، پی ٹی آئی تو ظاہر ہے اس کے احتساب سے بھاگے گی،پرویز خٹک کہتے ہیں بی آر ٹی کے فیصلے اے ڈی بی نے کیے لیکن اس کا کریڈٹ خود لے لیتے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پشاور بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم

قرار دے دیا ہے ۔ عدالت عظمی نے کے پی کے حکومت کی جانب سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے پشاور بی آر ٹی منصوبے کی نیب اور ایف آئی اے تحقیقات روکنے کا حکم دیدیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بی آر ٹی پشاور کی تحقیقات نیب نہیں کر سکے گا، ہائی کورٹ کا

فیصلہ قیاس آرائیوں پر مبنی تھا، عدالت نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اضافی دستاویزات پر مشتمل جواب داخل کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ الزام ہے کہ بی آر ٹی کی لاگت تخمینے سے زیادہ آئی، فلائی اوور اور انڈر پاس غیر معیاری ہیں، کئی مقامات پر راستے کی چوڑائی کم تھی ، جسے توڑ کر دوبارہ بنایا گیا۔ آپ پبلک آفس ہولڈر ہیں، ان الزامات کا جواب دینا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…