بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

3 دعوے دار اصل رقم بتانے میں ناکام ، پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس میں ملنے والی کروڑوں روپے کی رقم کے بارے میں اہم فیصلہ

datetime 3  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /)پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس میں ملنے والے کروڑوں روپے کی ملکیت کا معاملہ حل نہ ہو سکا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے 3 دعویدار سامنے آئے تھے ۔پی آئی اے ترجمان نے کہا ہے کہ ملی بھگت سے رقم کے اعداد و شمار کے حصول کے بعد یہ دعوے دار ایک بار ناکام ہو کر دوبارہ نمودار ہوئے

لیکن رقم منتقلی کے لیے درکار سرٹیفکیٹ طلب کرنے پر دعوے دار اسے فراہم کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں ۔ترجمان کے مطابق تین دعوے داروں کے دعوے غلط ثابت ہوئے، جعلی دعوؤں کے باعث اب یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس کراچی میں تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے تین دعویدار سامنے آنے کے باوجود وہ رقم ان میں سے کسی کو بھی نہیں ملے گی اور وہ قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔ ترجمان ایئرلائن نے تصدیق کر دی۔ موقر قومی اخبار روزنامہ جنگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 22مئی 20120ء کو پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303کراچی میں لینڈنگ کرتے ہوئے ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے مکانات پر کریش کرگئی جس میں 95قیمی جانوں کا ضیاع ہوا۔ طیارے کے ملبے سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں 3کروڑ روپے سے زائد کی کرنسی موجود تھی جو کچھ ادھ جلی بھی تھی۔ اس رقم کے تین دعویدار سامنے آئے مگر کوئی بھی اصل رقم بتانے میں ناکام رہا۔ مگر کچھ ماہ بعد غالباً تینوں دعویداروں کو پی آئی اے کے عملے کی ملی بھگت سے اصل رقم کی مالیت کے بالکل درست اعداد و شمار معلوم ہوگئے جبکہ وہ رقم پی آئی اے کے لاکرز میں رکھی ہوئی تھی جس کے بعد تینوں دعویداروں نے دوبارہ پی آئی اے سے رابطہ کیا اور اصل اعداد و شمار بتائے مگر جب ان سے وہ سرٹیفکیٹ طلب کیے گئے جو رقم منتقلی کے لیے لازمی بنوانا ہوتا ہے تو تینوں ناکام رہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کروا دی جائے گی۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے نمائندہ ”جنگ“ سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بریف کیس میں موجود رقم کے تین دعویدار سامنے آئے تھے مگر وہ ضروری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…