منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بچے تین دن سے بھوکے ہیں،میرے پاس کچھ نہیں، انہیں کھانا کھلانے کیلئے بھیک مانگوں یا اپنی عزت بیچوں ، ایک ماں اپنی حالت بیان کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر روپڑی

datetime 24  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ملک میں مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام کا جینا دو بھر ہو گیا ، حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابوپانےکے اعلانات تو کیے جارہے ہیں مگر ملک بھر میں مہنگائی بے لگام ہوچکی ہے اور اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔ عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔ ایسے میں ایک ماں کی رولا دینے والی ویڈیو سامنے آئی ہے

جس میں انہوں نے اپنی غریبی اور بے بسی کا پس منظر سسکیوں اور ہچکیاں لے کر بیان کیا ہے ۔ نجی ٹی وی رپورٹر سے خاتون کا روتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے تین بچے ہیں اور پچھلے دن دن سے بھوکے ہیں ۔مجھ سے ان کی بھوک برداشت نہیں ہوتی ، میں خود اور ان انہیں ختم کرنا چاہتی ہوں ، میں نے گزشتہ روز یہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن میری ہمت جواب دے کہ میرا میاں نہیں تو میرے بچوں کو کون دیکھے گا ۔ خاتون کا کہنا تھا کہ یہ میرے گھر کاتیرہ ہزار روپے کا بل ہے جس کی قسطیں کرانے کیلئے پچھلے کئی گھنٹوں سے در بدر پھر رہی ہوں ، کوشش کر رہی ہوں کسی کے آگے میرا ہاتھ پھیلانے کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے ہمیں اتنا بردباد کر دیا کہ دل کر تا ہے کہ اپنے بچوں اور خود کو ختم کر دوں ، آپ بتائیں کہ کیا کریں ، بھیک مانگوں یا پھر اپنی عزت بیچوں ، حکومت نے ہمیں برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ،مجھے وزیراعظم بتادیں کہ ہم کیا کریں کدھر جائیں ، میرے تین بچے ہیں اور یہ میرا بچہ بھوکا ہے ، میرا میاں نہیں اور میں کرائے کے گھر میں رہتی ہوں ۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اس حکومت سے بہت آس امیدیں تھیں لیکن یہ کیا حال ہو گیا ۔ رپورٹر سے خاتون کا کہنا تھا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں آپ چاہیں تو میرا پرس چیک کر سکتے ہیں ، اگر عمران خان کی کوئی بیٹی نہیں ہے نہ اگر ان کی اپنی بیٹی ہوتی تو میںدیکھتی کہ ہم کیسے در بدر ہوتے ۔ میں نے کچھ بھی کیا تو اپنے بچوں کیساتھ کروں اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ہو گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…