بھارتی حکومت نے پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچاکر اپنے ہی فوجی مار دیے

  اتوار‬‮ 17 جنوری‬‮ 2021  |  23:53

سرینگر (این این آئی) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی اکائی جموںو کشمیر ایمپلائز موومنٹ نے کہاہے کہ بھارتی حکومت نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچاکر اپنے ہی 40 فوجیوں کو قتل کردیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ایمپلائز موومنٹ کےترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میںکہاکہ اسی طرح انعامی رقم کے حصول کے لئے شوپیان جعلی مقابلے کا ڈرامہ رچایاگیا جس سے ظاہرہوتا ہے کہ ایک کشمیری کی زندگی بھارتی فوجیوں کے لئے کتنی سستی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی چارج


شیٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کے افسران نے محض 20 لاکھ روپے کی انعامی رقم حاصل کرنے کے لئے تین بے گناہ اور نہتے نوجوانوں کو شہید کیا ہے جو انتہائی شرمناک اور غیر اخلاقی فعل ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے سنجیدگی لیںکیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیریوں کی زندگی اور سلامتی کو کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی دنیا اس صورتحال کا نوٹس نہیں لے گی تو کب لے گی کیونکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھاتی فوجی اتنی سے چھوٹی رقم کے لئے کسی بھی شخص کو خطرناک دہشت گرد قرار دے کر قتل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دنیا کو چاہیے کہ وہ ان گھنائونے جرائم کے لئے ذمہ دار لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوج کے جنگی جرائم پر فوری کاروائی کرے۔ترجمان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کے لیے اپناکردار ادا کریں۔ دوسری جانب بھارت میں ریپبلک ٹی وی کے چیف ارنب گوسوامی کے لیک ہونے والے وٹس ایپ پیغامات نے اس حقیقت کو آشکارکردیا ہے کہ آر ایس ایس کایہ غنڈہ پلوامہ دھماکے اور اس کے بعد بالاکوٹ میں ہونے والے حملے کے بارے میں جانتا تھا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پلوامہحملہ بھارتی حکومت کی کارستانی تھی۔ براڈکاسٹ آرڈی ینسز ریسرچ کونسل (بی اے آر سی) کے سابق سی ای او پرتھو داس گپتا کے فون سے بھیجے گئے واٹس ایپ پیغامات سے جو ایک ہزار سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہیں ، پتہ چلتا ہے کہ اس نے ٹی وی اینکرارنب گوسوامی کے ساتھ متعدد بار چیٹنگ کی ہے۔ یہ ٹی وی اینکر بی جے پیاور آر ایس ایس کے ساتھ اپنے قریبی روابط کی وجہ سے بدنام ہے۔افشاء ہونے والے چیٹس سے ایک بڑا انکشاف یہ ہوا ہے کہ بالاکوٹ فضائی حملے سے قبل ہی ارنب کو اس حملے کا علم تھا۔ لیک ہونے والے واٹس ایپ پیغامات میں ارنب نے پرتھو داس گپتا کوجو ٹی آر پی سکینڈل کا ملزم ہے اس بارے میں ایک پیغام بھیجا ہے ۔ٹی آر پی اسکینڈلگزشتہ سال سامنے آیا تھا جب براڈکاسٹ آڈوینسز ریسرچ کونسل نے جو نشریاتی اداروں اور ایڈورٹائزرز کا ایک اعلیٰ ادارہ ہے اور ٹی وی ریٹنگ کی نگرانی کرتا ہے ، شکایت درج کروائی کہ کچھ چینلز اشتہارات سے آمدنی بڑھانے کے لئے اپنے ٹی آر پی نمبروں میںہیراپھیری کررہے ہیں ۔وٹس ایپ پیغامات میں 23 فروری 2019 کوارنب نے داس گپتا کو بتایا کہ کچھ بڑا ہو نے والا ہے۔ جب داس گپتا نے پوچھا کہ کیا یہ دائود کے بارے میں کچھ ہے تو ارنب نے جواب دیا نہیں جناب پاکستان۔ اس بار کچھ خاص ہوگا۔ جب داس گپتا نے مزید پوچھاکی کہ آیا یہ حملہ ہوگایا اس سے بڑا کچھ ہوگا ، ارنب نے جواب دیا ، عام حملے سے بڑاہوگا۔ اور کشمیر پر بھی کچھ بڑا ہوگا۔پاکستان کے بارے میں پیغام میں کہاگیا کہ حکومت کو اعتماد ہے کہ حملہ اس طرح کا ہوگا کہ لوگ خوش ہوجائیں گے۔ارنب کی ایک اور گفتگو میں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پلوامہ حملے کے بعد جس میں بھارتی فوج کے 40 فوجی ہلاک ہوگئے تھے ، وہ جیت گئے ہیں۔ارنب نے بالاکوٹ حملے پر تبصرے کرتے ہوئے اپنی گفتگو میں کہاہے کہ اس سے انتخابات میں کامیابی ہوگی۔14 فروری کو سہ پہر 3بجکر15منٹ پر ایک حملہ آور نے پلوامہ میں 40 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا اور اسی دن شام5بجکر 42منٹ پرارنب کہتا ہے کہ اس حملے سے ہم جیت گئے ہیں۔اس طرح یہ شخص واضح طور پر 40 بھارتی فورسز اہلکاروں کی ہلاکت پر جشن اور خوشی منا رہا ہے۔ سوالیہ ہے کہ کیوں؟26 فروری 2019 کو بالاکوٹ حملے کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ ا سے لوگ خوش ہوجائیں گے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ارنب گوسوامی کی چیٹنگ نے بھارت کا اصل چہرہ اور پلوامہ دھماکے اور بالاکوٹ حملے کے پیچھے اس کی سازش کو بے نقاب کردیا ہے اور ان حملوں سے متعلق پاکستان کے موقف کو درست ثابت کیا ہے۔ان کے بقول اس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ پلوامہ حملہ ایک جعلی ا آپریشن تھا جس میں بھارت نے اپنے ہی فوجیوں کو ہلاک کیا اور اس کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎