منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

نمبرداروں اور نہری پٹواریوں کی چھٹی 150 سالہ نہری نظام ختم کرنے کی تیاریاں

datetime 6  جنوری‬‮  2021 |

مکوآنہ  (این این آئی )حکومت پنجاب نے150 سالہ نہری نظام ختم کرنے پرغورشروع کر دیا ‘ نمبرداروں اور نہری پٹواریوں کی چھٹی ، آبیانہ ای بل کے زریعے وصول ہوگا ‘پنجاب بھر میں آبیانہ فکس کرکے کمپیوٹر نظام متعارف کروادیاگیا  ‘ کسان اپنا آبیانہ ای بل کے زریعے قومی خزانہ میں جمع کروائیں گے۔ ملکی زراعت کو ترقی

سے ہمکنار کرنے کے لئے جدید رحجانات اپنانے کے ساتھ ساتھ انڈسٹری، اکیڈیمیا اور کسانوں کے باہمی اشتراک سے ایسی حکمت عملی اپنانا ہو گی جس کے ذریعے ملکی پیداواریت کا حجم کئی گنا بڑھایا جا سکے۔ ان باتوں کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے شعبہ حشریات میں منعقدہ انڈسٹری یونیورسٹی مشترکہ تعاون کے حوالے سے کراپ لائف کے ماہرین و زرعی سائنسدانوں کے ایک اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے مسائل کے حل کے لئے یونیورسٹی میں بہترین تحقیق کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار کو بڑھاتے ہوئے غربت کے خاتمے میں کمی کے ساتھ ساتھ فوڈ سیکورٹی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ انہوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار روایتی طریقہ کاشت، پوسٹ ہارویسٹ نقصانات، غیرتصدیق شدہ بیج اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے جس کے لئے تمام شعبہ جات کو مربوط کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ چیئرمین انٹومالوجی ڈاکٹر سہیل احمد نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں فنڈنگ بڑھانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو جدید رجحانات سے روشناس کرانا وقت کی

اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف نے کہا کہ انڈسٹری اکیڈیمیا تعلقات کو مضبوط کر کے زراعت کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 80ء کی دہائی میں دوا ساز کمپنیاں کسانوں کو جدید زرعی رحجانات اور فصل کی بہتر

نگہداشت کے متعلق آگاہی فراہم کر رہی تھیں تاہم گزشتہ ایک دہائی سے دواساز کمپنیوں نے یہ عمل روک دیا ہے جس کو دوبارہ بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مسائل کی وجہ سے زراعت ایک منافع بخش کاروبار نہیں رہا جس کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں

نے کہا کہ 60ء کی دہائی میں انٹی گریٹڈ پسٹ مینجمنٹ(آئی پی ایم) کو قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا تاکہ ملک میں محفوظ ادویات کے فروغ کے ساتھ ساتھ ماحول دوست زراعت کو فروغ دیا جا سکے۔ کراپ لائف پاکستان ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد احمد نے کہا کہ وہ بہترین ادویات کی تیاری کے ساتھ کسانوں کو درپیش

چیلنجز کے حل کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بعض علاقوں میں مکئی، چاول اور کپاس کو کافی نقصان پہنچا تاہم پاکستان کی زراعت میں بہتری کے لئے کاشتکاروں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ میں زرعی ماہرین سرور راہی، عامر بشیر، پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکرم، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد بسرا، پروفیسر ڈاکٹرمحمد ارشد، ڈاکٹر دلدار گوگی اور دیگر نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…