جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

نمبرداروں اور نہری پٹواریوں کی چھٹی 150 سالہ نہری نظام ختم کرنے کی تیاریاں

datetime 6  جنوری‬‮  2021 |

مکوآنہ  (این این آئی )حکومت پنجاب نے150 سالہ نہری نظام ختم کرنے پرغورشروع کر دیا ‘ نمبرداروں اور نہری پٹواریوں کی چھٹی ، آبیانہ ای بل کے زریعے وصول ہوگا ‘پنجاب بھر میں آبیانہ فکس کرکے کمپیوٹر نظام متعارف کروادیاگیا  ‘ کسان اپنا آبیانہ ای بل کے زریعے قومی خزانہ میں جمع کروائیں گے۔ ملکی زراعت کو ترقی

سے ہمکنار کرنے کے لئے جدید رحجانات اپنانے کے ساتھ ساتھ انڈسٹری، اکیڈیمیا اور کسانوں کے باہمی اشتراک سے ایسی حکمت عملی اپنانا ہو گی جس کے ذریعے ملکی پیداواریت کا حجم کئی گنا بڑھایا جا سکے۔ ان باتوں کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے شعبہ حشریات میں منعقدہ انڈسٹری یونیورسٹی مشترکہ تعاون کے حوالے سے کراپ لائف کے ماہرین و زرعی سائنسدانوں کے ایک اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے مسائل کے حل کے لئے یونیورسٹی میں بہترین تحقیق کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار کو بڑھاتے ہوئے غربت کے خاتمے میں کمی کے ساتھ ساتھ فوڈ سیکورٹی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ انہوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار روایتی طریقہ کاشت، پوسٹ ہارویسٹ نقصانات، غیرتصدیق شدہ بیج اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے جس کے لئے تمام شعبہ جات کو مربوط کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ چیئرمین انٹومالوجی ڈاکٹر سہیل احمد نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں فنڈنگ بڑھانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو جدید رجحانات سے روشناس کرانا وقت کی

اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف نے کہا کہ انڈسٹری اکیڈیمیا تعلقات کو مضبوط کر کے زراعت کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 80ء کی دہائی میں دوا ساز کمپنیاں کسانوں کو جدید زرعی رحجانات اور فصل کی بہتر

نگہداشت کے متعلق آگاہی فراہم کر رہی تھیں تاہم گزشتہ ایک دہائی سے دواساز کمپنیوں نے یہ عمل روک دیا ہے جس کو دوبارہ بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مسائل کی وجہ سے زراعت ایک منافع بخش کاروبار نہیں رہا جس کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں

نے کہا کہ 60ء کی دہائی میں انٹی گریٹڈ پسٹ مینجمنٹ(آئی پی ایم) کو قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا تاکہ ملک میں محفوظ ادویات کے فروغ کے ساتھ ساتھ ماحول دوست زراعت کو فروغ دیا جا سکے۔ کراپ لائف پاکستان ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد احمد نے کہا کہ وہ بہترین ادویات کی تیاری کے ساتھ کسانوں کو درپیش

چیلنجز کے حل کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بعض علاقوں میں مکئی، چاول اور کپاس کو کافی نقصان پہنچا تاہم پاکستان کی زراعت میں بہتری کے لئے کاشتکاروں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ میں زرعی ماہرین سرور راہی، عامر بشیر، پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکرم، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد بسرا، پروفیسر ڈاکٹرمحمد ارشد، ڈاکٹر دلدار گوگی اور دیگر نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…