جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اگر آج آپکی بات مان لی تو کل کوئی اور واقعہ ہوا تو وہ بھی ایسے ہی اپنی باتیں منوائیں گے، سانحہ مچھ کے مظاہرینکیساتھ مذاکرات کرنیوالے زلفی بخاری نے بے حسی کی انتہا کردی

datetime 6  جنوری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد،نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)سانحہ مچھ کے خلاف مظاہرین سے ملاقات کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی بے حسی سامنے اآگئی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ، تفصیلات کے مطابق وائرل ویڈیو میں صاف سنا جا سکتا ہے کہ مظاہرین نے زلفی بخاری سے

کہا کہ ہم نے ٹی وی پر دیکھا ہے کہ کس طرح وزیراعظم عمران خان مارے جانے والوں کے لواحقین سے ملاقات کرتے ہیں ، یہ لوگ ایسے نہیں ملنا چاہتے۔سانحہ مچھ میں مارے جانے والوں کے لواحقین عوام کے سامنے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے آنے سے ان لواحقین کو تسکین ملے گی۔ جس پر زلفی بخاری نے مظاہرین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بات نہیں کر رہا ، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ کل کو اگر خدانخواستہ ملک میں کوئی اور حادثہ ہوتا ہے تو پھر وہ لوگ بھی اصرار کریں گے کہ ہم ایسا نہیں چاہتے، ہم یہ چاہتے ہیں۔معاون خصوصی زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ خان صاحب کویہاں لائیں گے۔لیکن کل کو کوئی اور شہید ہو گا تو وہ کہیں گے کہ ہم ایسا چاہتے ہیں ، ایسا نہیں چاہتے۔آپ کیا فائدہ دیں گے اگر عمران خان یہاں دھرنے میں آئیں گے، ایسے تو کل کو پاکستان کہیں بھی کچھ ہوگیا تو وہ لوگ کہیں گے ہم ایسا کردیں گے ویسا کردیں گے ۔

دریں اثنااقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکر نے مچھ میں اس دہشتگرد حملے کی مذمت کی ہے جس میںمچھ میں 11 معصوم کوئلہ کنوں کی زندگیاں لے لی گئی تھیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک

میں صحافیوں کو بتایا کہ سیکریٹری جنرل پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشتگرد حملے اور 11 کان کنوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور کان کنوں کے لواحقین اور پاکستان کے عوام اور حکومت سے اظہار افسوس کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستانی

حکام اس دہشتگرادنہ عمل کے قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے جو ممکن ہوا وہ کریں گے،علاوہ ازیں ایک علیحدہ بیان میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکر کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں 11 کوئلہ

کان کنوں کی جانیں چلی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں کان کنوں کے خاندانوں اور پاکستانی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔مزید برآں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ان دونوں کا شکریہ ادار کیا اور کہا کہ پاکستان نے بیرونی معاونت سے چلنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف اپنی مہم میں بے مثال کامیابی دکھائی۔منیر اکرم کا کہنا تھا کہ لچک، صبر اور استقامت کے ساتھ ہم امن کے ان دشمنوں اور ہماری سرحدوں سے باہر محفوظ ٹھکانوں کا مزہ اٹھانے والے ان کے آقائوں کو شکست دیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…