پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس : مولانا فضل الرحمان کے چوکیدار کانیب سوالنامہ وصول کرنے سے انکار

datetime 30  دسمبر‬‮  2020 |

ڈیرہ اسماعیل خان( آ ن لائن )قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ان کے اثاثوں کے حوالے سے بھیجا گیا سوالنامہ متعلقہ ڈاکخانہ کی جانب سے انہیں اب تک نہیں پہنچایا کیونکہ وہ دو بار اپنی رہائش گاہ پر دستیاب نہیں تھے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مولانا کے اثاثوں سے متعلق جاری تحقیقات سے متعلق اثاثوں کا

پروفارما سمیت سوالنامے کو کچھ دن پہلے نیب نے مقامی پولیس کے بجائے رجسٹرڈ میل کے ذریعے بھیجا تھا۔یہاں شورکوٹ پوسٹ آفس کے عملے نے 22 اور 23 دسمبر کو دو بار سوالنامہ پہنچانے کی کوشش کی لیکن مولانا کی رہائش گاہ کے دروازے پر موجود نوکروں نے انہیں اطلاع دی کہ وہ دستیاب نہیں ہیں اور اسے اپنی طرف سے وصول کرنے سے انکار کردیا۔پوسٹ آفس انچارج نے ڈان کو تصدیق کی کہ عملے نے رجسٹرڈ میل پہنچانے کی کوشش کی لیکن وہ مولانا فضل تک نہیں پہنچ سکے جس کے بعد سوالنامہ واپس پشاور بھیج دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیب پشاور میں خط کی رجسٹری موجود تھی جسے مولانا فضل الرحمن کے علاوہ کسی کو نہیں دیا جانا چاہیے لہذا ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ نہیں دی جا سکی۔ذرائع نے بتایا کہ نیب خیبر پختونخوا نے مولانا فضل الرحمن کو 26 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ بھیجا تھا جس پر انہیں 24 دسمبر تک جواب جمع کروانا تھا۔سوالنامہ ان کی جائیداد اور بعض مشتبہ افراد سے ان کے تعلقات سے متعلق ہے۔احتساب کے ادارے نے مولانا فضل الرحمن سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے اور ان کے کنبہ کے افراد سے متعلق اثاثوں کی تفصیلات اور ان کے نام پر یا کسی اور شخص کے ذریعے خریدی گئی املاک کی تفصیلات بھی فراہم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…