آر پار کی بجائے کشتی منجدھار میں پھنس گئی ، عوام کی کتنی تعداد نے جلسے میں شرکت کی ، حیران کن انکشاف

  اتوار‬‮ 13 دسمبر‬‮ 2020  |  18:53

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی گیارہ سیاسی جماعتیں مل کر مینار پاکستان کے 25فیصد حصے کو نہیں بھر سکیں، تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ لاہور جلسے کا نتیجہ کچھ نہیں نکلنا ، وزیراعظم کو گھر بھیجنے والوں کی سیاست دفن ہونے جارہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کوگھر بھیجنے والی گیارہ پارٹیوں کی یہ حالت ہےکہ وہ مینار پاکستان کے 25فیصد حصہ بھی عوام سے نہ بھر سکیں ۔ انہوں نے جلسے کو تاریخ کا سب سے چھوٹا جلسہ قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر نے


اپوزیشن جماعتوں کا خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوچکی ہیں،جلسےدہشتگردوں کاآسان ہدف ہوتےہیں ۔ قبل ازیں وزیر داخلہ شیخ رشید نے سیکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پاکستان ڈیمو کریٹ جلسے کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ لیڈر پیغام دیتا ہے گلی گلی دعوت نامے نہیں دیتا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کے جلسے کے بعداپوزیشن کو منہ کی کھانی پڑے گی ، ان کے جلسوںسے وزیراعظم کہیں نہیں جارہے، بلکہ یہ اپنی سیاست کو خود ختم کرتے جارہے ہیں ۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے سیاسیجنازے کو کوئی کندھا دینے کو بھی تیار نہ ہو گا۔اتوار کے روز پی ڈی ایم کے جلسے سے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فردوس عاشق اعوان نے لکھا کہ آج کا دن عوام کے محافظوں اورعوام دشمنوں میں فرق جاننے کا دن ہے۔حکومت دن رات شہریوں کو کورونا سے بچانے کے لیے مصروف عمل ہے لیکن پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا ٹولہ جلسے کی آڑ میں عوام کو کورونا کی دلدل میں دھکیلنے پر بضد ہے۔‎


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎