پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

جج ارشد ملک کو قتل کیا گیا، ناصر بٹ کا حیران کن دعویٰ

datetime 5  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ن لیگ کے رہنما ناصر بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ جج ارشد ملک کو قتل کیا گیا ہے، انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ارشد ملک کو قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پی ٹی آئی حکومتی اتھارٹیز کی جانب سے نواز شریف کو سزا دینے کے لیے بلیک میل کیے جانے سے متعلق مجھے آگاہ کرنے پر کافی دباؤ کا

سامنا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ وہ میرے ساتھ رابطے میں تھے اور وہ نواز شریف کے خلاف سازش میں ملوث دیگر افراد کے نام سامنے لانا چاہتے تھے۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ارشد ملک کے بہنوئی وحید جاوید نے ان کی وفات کی تصدیق کی، سابق جج گزشتہ 25 روز سے اسلام آباد کے نجی ہسپتال شفا ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ارشد ملک کی حالت گزشتہ 2 روز سے انتہائی تشویشناک تھی اور وہ وینٹی لیٹر پر موجود تھے، سابق جج کے سوگواران میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔خیال رہے کہ جج ارشد ملک نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں 7سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کر دیا تھا۔عدالتی فیصلے کے بعد 6 جولائی 2019 کو مریم نواز ایک مبینہ آڈیو ویڈیو ٹیپ سامنے لائیں جس کے مطابق جج ارشد ملک نے دباؤ میں آکر یہ سزا سنائی تاہم جج ارشد ملک نے اس کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا۔اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ بھی کیا تھاکہ چونکہ جج نے ویڈیو میں خود اعتراف کر لیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا تھا اور ارشد ملک

کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹاکر او ایس ڈی بنایا گیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا تھا۔اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے 7 رکنی انتظامی کمیٹی بنائی تھی جس نے انکوائری رپورٹ میں مس کنڈکٹ ثابت ہونے پر ارشد ملک کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…