جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ڈنڈے کی بات کر نے والے مولانا فضل الرحمن اپنے نام کیساتھ مولانا نہ لگائیں،اگر یہ جلسے کی کال یہاں دیتے تو ان کو جوتے پڑتے،پی ڈی ایم کے سربراہ کو کھری کھری سنا دی گئیں

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعا ت ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہاہے کہ ہمارا مذہب امن کا درس دیتا ہے، ڈنڈا کی بات کر نے والے مولانا فضل الرحمن اپنے نام کیساتھ مولانا نہ لگائیں،عام حالات ہوتے تو ہمارا جلسے روکنے ناجائز ہوتا ہے، عوام کا تحفظ حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے،اگر یہ جلسے کی کال لندن میں دیتے تو ان کو جوتے پڑتے۔ نجی ٹی وی سے

با ت چیت کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اب وہ ڈنڈا استعمال کر ینگے وہ اپنے نام کے ساتھ مولانا لگاناچھوڑ دیں، یہ شخص مذہب کے پیچھے چھپا ہوا ہے، مذہب امن اور آشتی کا درس دیتا ہے،یہ ریاست کے خلاف ڈنڈا استعمال کر نے کی بات کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی مذہبی رہنما جواسلام کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے اسے نہیں چاہیے کہ وہ اس طرح کی باتیں کرے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ عام حالات ہوتے تو ہمارا جلسے روکنے ناجائز ہوتا،ہمیں عوام کو کورونا وائر س سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت حکومتوں میں جلسے جلوس ہوتے رہتے ہیں مگرموجودہ حالات میں حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے، یہ اسلام آباد ہائی کور ٹ کے حکم کی بھی نفی کررہے ہیں، حکومت نے اپنا کام کر نا ہے اور حکومت قانون کی حکمرانی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو چوروں کا ٹولہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہم غریب عوام کے جان ومال کی حفاظت کررہے ہیں، ہمیں آنسو گیس چلانے کا کوئی شوق نہیں ہے مگر قانون بھی خاموش تماشائی کا کر دار نہیں ادا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ جلسے کی کال لندن میں دیتے تو ان کو جوتے پڑتے، وہاں کے عوام قانون کا احترام کرتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اپوزیشن کی جماعت ہے، ان حالات میں جلسہ کوئی بھی کرے وہ غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے اراکین ذہنی طورپر مفلوج ہو چکے ہیں، یہ اپنی کرپشن اور ذاتی مفادات کیلئے اکٹھے ہورہے ہیں،ملتان میں چور کوتوال کو ڈانٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت دوبارہ اٹھ رہی ہے،وزیر اعظم کی کامیاب پالیسی کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…