اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

سنگین غداری کیس پر ردعمل مہنگا پڑ گیا، عدالت نے وفاقی وزراء کو خود پیش ہونے کا حکم دے دیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

پشاور (این این آئی) پشاور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے فیصلے سے متعلق وفاقی وزراء کے مبینہ توہین آمیز بیانات پر وفاقی وزراء اور وزیراعظم کے معاونین کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں وفاقی وزراء کے توہین آمیز بیانات کے خلاف دائر کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس روح الامین اور جسٹس اعجاز نے کی۔جسٹس روح الامین

نے ریمارکس دئیے کہ جنہوں نے توہین عدالت کی ہے وہ آئندہ سماعت پر خود پیش ہوں اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر جاوید نے عدالت سے استدعا کی کہ فریقین کی طرف سے ہم کیس میں پیش ہوں گے اور دلائل دیں گے۔ جسٹس روح الامین نے استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم دیاکہ توہین عدالت کرنے والے خود پیش ہوجائیں تو پھر آپ کو بھی سنیں گے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی وزراء کو خود پیش ہونیکا حکم دے دیا۔خیال رہے کہ گذشتہ سال 17 دسمبرکو اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔گذشتہ دنوں انتقال کرجانے والے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔ فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے جسٹس وقار سیٹھ نے پیرا 66 میں لکھا تھا کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہوجائیں تو لاش کو ڈی چوک پر لاکر 3 دن تک لٹکایا جائے۔مشرف غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد حکومتی ٹیم نے وفاقی حکومت کا مؤقف پیش کرنے کیلئے پریس کانفرنس کی تھی جس میں اس وقت کی وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان،وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر شریک ہوئے تھے۔اس دوران خصوصی عدالت کے ججز کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات دئیے گئے، اس کے علاوہ دیگر وزراء نے بھی فیصلے سے متعلق بیانات دیے تھے، جس کے خلاف خیبر پختونخوا بارکونسل نے توہین عدالت کی رِٹ دائرکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…