آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ،20کلو تھیلے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  20:38

کوئٹہ(این این آئی) کوئٹہ میں فائن آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد شہر میں فائن آٹے کے20کلو تھیلے کی قیمت 1300روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ کوئٹہ میں فائن آٹیکے20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 40روپے کامزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد شہر میں فائن آٹے کے20کلو تھیلے کی قیمت 1300روپے کی رکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے کوئٹہمیں رواں ماہ کے دوران فائن آٹے کی قیمت میں تیسری بار اضافہ ہواہے رواں ماہ کے اوائل میں آٹے کے20کلو کاتھیلا 1240روپے میں فروخت کیاجارہاتھا دوسری جانب بلوچستان میں فائن


آٹے کے20کلو تھیلے کی قیمت 950روپے مقرر کی گئی ہے تاہم آٹے کی قیمت کے حوالے سے سرکاری نرخنامہ یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے اور حکومت اس حوالے سے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کوئٹہ میں انڈوں کی فی درجن قیمت 180سے بڑھ کر 200روپے تک پہنچ گئی ہے اسی طرح شہر میں مرغی، بکرے اور گائے کے گوشت کی بھی مہنگے داموں فروخت جاری ہے۔ مارکیٹ ذرئع کے مطابق کوئٹہ میں رواں موسم سرما کے دوران انڈوں کی فی درجن قیمت میں پھر اضافہ ہوا ہے، انڈوں کی قیمت میں ایک ساتھ 20روپیکامزید اضافہ ہوا ہے، فی درجن قیمت 200روپے تک پہنچ گئی ہے اسی طرح مرغی، بکرے، گائے کے گوشت کی فروخت میں سرکاری نرخ نامے کو نظر انداز کیا جارہا ہے،شہر کے مختلف علاقوں میں مرغی کا فی کلو گوشت 360روپے تک میں فروخت کیا جا رہا ہے، بکر ے کا گوشت 1100سے1200روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے، گائے کا بغیر ہڈی کا گوشت 600سے650روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہاہے سرکاری طور پر بکرے کاگوشت 850روپے اور گائے کا گوشت 480روپے فی کلو مقررکیا گیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈیڈ اینڈ

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎