حکومت کا ایاز صادق اور پی ڈی ایم رہنماؤں سے معافی مانگنے کا مطالبہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ

  جمعرات‬‮ 29 اکتوبر‬‮ 2020  |  19:50

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے ابھی نندن کے بیان پر قوم ایاز صادق اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ای) سے حساب لے گی،ہم چاہتے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر معافی مانگے اس سے کم پر بات نہیں ہوگی۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ اس ملک میں دہشتگردی کون کرواتا ہے اور کلبھوشن کہاں سے پکڑا جاتا ہے سب جانتے ہیں اور ایسی جگہ پر اس قسم کی بات کرنے والا خود آکر وضاحت


کرتا ہے جبکہ بلاول بھٹو، مریم نواز یا مولانا فضل الرحمٰن جیسی مرکزی قیادت نے اس بیان کی مذمت نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ یہ بات یہی پر ختم نہیں ہوئی بلکہ عوام ان باتوں پر سوچ رہے تھے کہ کیا ہورہا ہے جب کورونا کے باوجود ہماری حکومت کی بہتر حکمت علی کی وجہ سے بہتری جانب گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک کے خلاف مختلف سازشیں ہورہی ہیں اس دوران ان کے ایک لیڈر جو قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور مسلم لیگ (ن) سے وابستگی ہے اورا نہوں نے سو فیصد دشمن کو خوش کرنے کے لیے بات کی۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے چینلوں میں شادیانے بجائے جارہے ہیں، ایک ذمہ دار شخص نے ایسی بات کی اور ثابت کیا کہ وہ اس کے منصب کے اہل نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کی گرفتاری کا واقعہ ہوا تو بھارت کے دفاع کی قلعی کھل گئی تاہم ہم نے ذمہ دار ریاست کے طور پر وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ ابھی نندن کو واپس کیا جائے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اس فیصلے سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوا اور اس بہترین فیصلے کی پذیرائی عالمی سطح پر ہوئی جبکہ ہمارے دشمن بھارت کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور اس شکست سے بچنے کے لیے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رافیل طیارے ہوتے تو ایسا نہیں ہوتا۔اپوزیشن کو مخاطبکرکے انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی فتح کو شکست میں تبدیل کرتے ہیں اور آپ نے تصدیق کردی ہے جو ہم کہتے تھے کہ دشمن کے بیانیے کو تقویت پہنچاتے ہیں اور بیانات سے لگتا ہے کہ اداروں پر حملہ کرتے ہیں اور فوج میں تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور آج آئی ایس پی آر نے وضاحت بھی کردی اور کہا کہ بھارتی جنگی قیدی ابھی نندن کی رہائی ریاست کے ذمہ دارانہقدم کے سوال کسی اور بات سے جوڑنا افسوس ناک اور گمراہ کن ہے۔انہوں نے کہاکہ ذاتی مفاد حاصل کرنے کے نظام کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اداروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اس کا مقصد ملک میں افراتفری پھیلانا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان کی سیاست قومی مفادات کے گرد گھومے گی جبکہ ذاتیمفاد کے لیے نہیں ہوگی جو اپوزیشن کا ایجنڈا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کے بیان پر قوم ایاز صادق سے حساب لے گی اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر معافی مانگے اور اسی طرح پی ڈی ایم کی قیادت بھی ندامت اور مذمت کرکے پاکستان کے عوام معافی مانگے کیونکہ ہم اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔شبلی فراز نے کہا کہ کوئٹہ میں جو بیان دیاگیا اور لندن سے تقریر کی گئی وہ آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے، اگر پی ڈی ایم کی قیادت نے پارلیمنٹ میں معافی مانگی تو پھر ٹھیک ہے ورنہ قانون کو اپنا راستہ لینا چاہیے پھر یہ نہیں ہوگا کہ سیاسی مخالفت میں ایسا ہو رہا ہے کیونکہ انہوں نے خود کو ایکسپوز کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے خود اپنی اصلیت بتادی ہے کہ یہ لوگ ذاتی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتےہیں، حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ ہم اس کو آسانی سے برداشت نہیں کریں گے، نہ پاکستان کے عوام برداشت کریں گے اور انہیں معافی مانگنی پڑے گی اس سے کم پر بات نہیں ہوگی جبکہ دیگر باتیں بعد میں دیکھی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ ایک عدالتی مفرور ملکی اداروں پر گولا باری کررہا ہے اور قائد کے مزارکی بے حرمتی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے جو ڈرامہ رچایا جارہا ہے وہ عوام کے لیے نہیں ہے،بنیادی مقصد سینیٹ کا انتخابات ہے،انشاء اللہ سینیٹ کے الیکشن بھی ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف کو واپس لائیں گے ان سے پیسے نکالنے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎