منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

اورنج ٹرین ،ان پراجیکٹس میں کرپشن اور لوٹ مار کی پاداش میں چھوٹے میاں پابند سلاسل ہیں، ن لیگ کو دو ٹوک جواب

datetime 26  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گِل نے مریم اورنگزیب کے اورنج لائن ٹرین سے متعلق بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ اہے کہ ان پراجیکٹس میں کرپشن اور لوٹ مار کی پاداش میں چھوٹے میاں پابند سلاسل ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں

نے کہاکہ میٹروز اور اورنج لائن میں کک بیکس کے زریعے اربوں ہڑپے گئے، مہنگے پراجیکٹس میں سبسڈی کی مد میں خزانے کو اربوں کا چونا لگایا گیا، ۔ انہوںنے کہاکہ کک بیکس کے لالچ میں بنا سوچ بچار کیے تاریخی عمارتیں سمیت قومی ورثے کو داؤ پر لگایا گیا، اسلام آباد صحت اور تعلیم کے فنڈز اورنج لائن میں استعمال کیے گئے، اورنج لائن جیسے سفید ہاتھی عوام کے سر منڈوائے گئے، کیونکہ کمیشن کھانا تھا۔انہوںنے کہاکہ آپکے اورنج پراجیکٹ کی وجہ سے پنجاب حکومت 12 سال تک سالانہ 40 اعشاریہ 62 ملین امریکی ڈالر ادا کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ اتنی خطیر رقم صرف ایک منصوبے پر خرچ کر کے عوامی فلاح وبہبود کو نظر انداز کیا گیا،انکا وطیرہ رہا کہ دو دھاری تلوار کی مانند پہلے مہنگے ترین پراجیکٹس اور پھر سبسڈی کی مد میں لوٹتے رہے۔ڈاکٹر شہباز گِل نے کہاکہ بے شرمی کی انتہا کہ انہی پراجیکٹس میں کرپشن کرنے والے کو شکریہ کہا جا رہا ہے، کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کا نعرہ مقبول کرنے والوں کو عوام معاف نہیں کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان عوام کو باشعور کر چکے اب پائی پائی کے حساب کا شور ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…