بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی سی ایل کا 15 سال کے مالی معاملات کا آڈٹ کرانے سے انکار،پی ٹی اے کا قومی خزانے کو 42 ارب سے زائد نقصان پہنچانے کا انکشاف

datetime 25  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پی ٹی سی ایل (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمٹیڈ) کو 4 جی کا غیر قانونی سیپکٹرم دے کر قومی خزانہ کو 42 ارب 60 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان میں فور جی (4G) کا لائسنس صرف زانگ

کے پاس ہے لیکن پی ٹی اے کی نااہلی کے باعث پی ٹی سی ایل نے بھی فور جی سیپکٹرم استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ قانون اور قواعد کے مطابق پی ٹی سی ایل 4G سیپکٹرم استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتی ہیں۔ پی ٹی سی ایل جب سے دبئی کے حکمرانوں کے پاس گئی ہے اس وقت سے یہ ادارہ قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے ابھی تک 800 ملین ڈالر بھی حکومت پاکستان کو ادا نہیں کئے ہیں جبکہ پی ٹی سی ایل نے گزشتہ 15 سالوں سے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ بھی نہیں کرایا اور حکومت کو اپنے مالی معاملات کا ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا ہے سرکاری دستاویزات کے مطابق پی ٹی سی ایل اپنے صارفین کو فور جی، Lte Tablet اور چار جی ایووئیب اور چار جی ایوو کلاوڈ فراہم کر رہی ہے جو یہ جی فور پر مشتمل ہے۔ پی ٹی سی ایل نے اپنی من مانی کر کے قومی خزانہ کو 42 ارب 60 کروڑ 426 ملین ڈالر کا نقصان دے چکی ہے۔وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے بھی پی ٹی سی ایل کے خلاف سخت ایکشن لینے سے عاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…