“کیپٹن صفدر نے جو کیا وہ کیسے باعث شرم ہے؟ روزہ رسول ؐپر لوگ نعرے تو کیا گالیاں بھی دے دیتے ہیں، سعودی حکومت نے تو کبھی ایکشن نہیں لیا “، رانا ثنا ء اللہ حکومت پر برس پڑے

  منگل‬‮ 20 اکتوبر‬‮ 2020  |  14:09

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کیپٹن صفدر نے جو مزار قائد پر کیا وہ کیسے غلط ہے ؟ بانی قائد کا احترام ہمیں اپنے آپ سے زیادہ ہے ، لیکن کیا حرم شریف اور روضہ رسولؐ کا احترام کم ہے ، وہاں پر لوگ نعرے لگاتے ۔اپنے مخالف لیڈروں کو گالیاں تک دیتے ہیں جس کا شرف پی ٹی آئی کوحاصل ہے آن ریکارڈ ہےسعودی حکومت نے تو کبھی ایسے لوگوں کیخلاف نہ تو مقدمہ درج کیا اور نہ ہی ایسے لوگوں کیخلاف ایکشن لیا جیسا انہوں نے


گزشتہ روز کیا ہے ۔دریں اثنا رانا ثنا اللہ نے ہم نے حمایت نہیں کی حکومت نے اگست 2019میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی تھی ، آپ مجھے ثابت کر دیں کہ حکومت نے توسیع معاملے میں کسی بھی اپوزیشن جماعت سے نہیں پوچھا ۔ جب حکومت کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی تو کسی اپوزیشن جماعت نے اس کے اوپر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ایک محب وطن سپریم کورٹ چلا گیا ، جب سپریم کورٹ نے حکومتی آڈر کا جائزہ لیا تویہ ہیں ہی اتنے نااہل اور نالائق کیونکہ انہوں نے پہلے کیبنٹ سے منظور ی لے لی تھی ، اس کے بعد وزیراعظم نے ایڈوائس صدر پاکستان کو کرنی تھی اور پھر صدر مملکت نوٹیفکیشن دینا تھا ، انہوں نے یہ کیا کہ نوٹیفکیشن پہلے کر دیا ، ایڈوائس بعد میں بھیج دی اور پھر اسے کیبنٹ میں لے کر گئے ۔ سپریم کورٹ نےجب اس ساری صورتحال کا جائز ہ لیا تو پتہ چلا اس کے اوپر تو کوئی لاء ہی نہیں ، جب لاء نہیں تھا تو سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کوکہا کہ اس کے اوپر قانون بنائیں ، پھر پارلیمنٹ میں لاء بنا ہم نے ووٹ اسے دیا ، اور آرمی چیف کی توسیع وزیراعظم نے دی ہے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎