جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پلان 2کے تحت شیخ رشید کے کچھ چھپے ’’رشتہ‘‘ داروں کے تعارف عام کی زحمت بھی اٹھائی جاسکتی ہے، اگر یہ کام نہ کیا گیا تو لال حویلی کا رخ بھی کیا جا سکتا ہے، حافظ حسین احمد کا دعویٰ

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ (آ ن لائن ) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی جانب سے میڈیا میں جے یو آئی کو دئیے جانے والے چیلنج کو ہماری جانب سے تین بارقبول ہے، قبول ہے، قبول ہے ،کہنے اورجوابی چیلنج دینے پر شیخ چلی میڈیا کے میدان سے تو بھاگ گئے ہیں، اس کے بعد اب ہم پلان 2 ترتیب دے رہے ہیں۔ وہ بدھ

کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود سے گفتگو اور میڈیاکے سو الات کے جوابات دے رہے تھے۔ اس موقع پر جے ویو آئی سکھر کے نائب امیر آغا محمد ہارون شاہ، ضلع سکھر کے سابق سالارابو جنید چوہان، سکھر جمعیت کے رہنما حکیم عبدالرحمن، سید خضر آغا، حافظ منیر احمد ایڈوکیٹ اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شیخ رشید اپنی ہرزہ سرائی پر مولانا فضل الرحمن اور عوام سے معافی نہیں مانگتے، تو اس کے لیے شیخ رشید کو ’’ تو مان یا نہ مان میں تیرا مہمان‘‘ کے مصداق نہ صرف جے یو آئی بلکہ دیگر مذہبی رہنماوں کی میزبانی کاشرف بھی بخشا جاسکتا ہے بلکہ کم از کم ایک مبینہ ’’؟ ‘‘ کے حوالے سے ’’شیخ رشید‘‘ کے کچھ چھپے’’ رشتہ‘‘ داروں کے تعارف عام (رونمائی) کی زحمت بھی اٹھائی جاسکتی ہے ،بھلے اس انوکھے اور پنڈی کے عوام کے دلچسپ معلوماتی ’’ ایونٹ‘‘ کے نظارہ کے لیے ’’اُن‘‘ کو جن کے شیخ رشید ’’ناجائز ترجمان بنے ہوئے ہیں ‘‘ چند مزید ٹیلی فون ہی کردیں، شاید رحم کھا کر وہ ’’کال اٹینڈ‘‘ کرہی لیں، جے یو آئی کے ترجمان کا کہناتھا کہ انشاء اللہ تعالی11اکتوبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تحریک کا آغاز کوئٹہ کے جلسہ عام سے ہوگا اور جب پنڈی کا رخ کیا جائیگاتو اکابرین کی اجازت سے شیخ رشید پہلی ’’سیاسی بارات‘‘ کے ساتھ لال حویلی کی یاترا کی جاسکتی ہے بشرطیکہ شیخ رشید ، مولانا دفضل الرحمن

اورعوام سے معذرت اور معافی نہیں مانگتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…