جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پلان 2کے تحت شیخ رشید کے کچھ چھپے ’’رشتہ‘‘ داروں کے تعارف عام کی زحمت بھی اٹھائی جاسکتی ہے، اگر یہ کام نہ کیا گیا تو لال حویلی کا رخ بھی کیا جا سکتا ہے، حافظ حسین احمد کا دعویٰ

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ (آ ن لائن ) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی جانب سے میڈیا میں جے یو آئی کو دئیے جانے والے چیلنج کو ہماری جانب سے تین بارقبول ہے، قبول ہے، قبول ہے ،کہنے اورجوابی چیلنج دینے پر شیخ چلی میڈیا کے میدان سے تو بھاگ گئے ہیں، اس کے بعد اب ہم پلان 2 ترتیب دے رہے ہیں۔ وہ بدھ

کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود سے گفتگو اور میڈیاکے سو الات کے جوابات دے رہے تھے۔ اس موقع پر جے ویو آئی سکھر کے نائب امیر آغا محمد ہارون شاہ، ضلع سکھر کے سابق سالارابو جنید چوہان، سکھر جمعیت کے رہنما حکیم عبدالرحمن، سید خضر آغا، حافظ منیر احمد ایڈوکیٹ اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شیخ رشید اپنی ہرزہ سرائی پر مولانا فضل الرحمن اور عوام سے معافی نہیں مانگتے، تو اس کے لیے شیخ رشید کو ’’ تو مان یا نہ مان میں تیرا مہمان‘‘ کے مصداق نہ صرف جے یو آئی بلکہ دیگر مذہبی رہنماوں کی میزبانی کاشرف بھی بخشا جاسکتا ہے بلکہ کم از کم ایک مبینہ ’’؟ ‘‘ کے حوالے سے ’’شیخ رشید‘‘ کے کچھ چھپے’’ رشتہ‘‘ داروں کے تعارف عام (رونمائی) کی زحمت بھی اٹھائی جاسکتی ہے ،بھلے اس انوکھے اور پنڈی کے عوام کے دلچسپ معلوماتی ’’ ایونٹ‘‘ کے نظارہ کے لیے ’’اُن‘‘ کو جن کے شیخ رشید ’’ناجائز ترجمان بنے ہوئے ہیں ‘‘ چند مزید ٹیلی فون ہی کردیں، شاید رحم کھا کر وہ ’’کال اٹینڈ‘‘ کرہی لیں، جے یو آئی کے ترجمان کا کہناتھا کہ انشاء اللہ تعالی11اکتوبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تحریک کا آغاز کوئٹہ کے جلسہ عام سے ہوگا اور جب پنڈی کا رخ کیا جائیگاتو اکابرین کی اجازت سے شیخ رشید پہلی ’’سیاسی بارات‘‘ کے ساتھ لال حویلی کی یاترا کی جاسکتی ہے بشرطیکہ شیخ رشید ، مولانا دفضل الرحمن

اورعوام سے معذرت اور معافی نہیں مانگتے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…