بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

اپوزیشن کا حکومت کی دلالی کرنے والے سپیکر کی دعوت پرنہ جاکر عدم اعتماد کا برملا اظہار،حافظ حسین احمد نے شیخ رشید کو افسوسناک لقب دیتے ہوئے کھلم کھلا دھمکی دے ڈالی

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ/اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اور سابق ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی غیر جانبدار نہیں رہے اس لیے جے یو آئی سمیت پی ڈی ایم کے دیگر جماعتوں نے بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے ان کے بلائے گئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔وہ اتوار کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا اورمختلف وفود سے گفتگو کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معاملات خصوصاً قانون سازی پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا پارلیمنٹ کے قائد ایوان وزیراعظم کے فرائض میں شامل ہے لیکن گذشتہ دو سالوں سے وہ اپوزیشن سے ”کُٹی“ کئے ہوئے ہیں اور باامر مجبوری سیاسی معاملات میں مشاورت کے لیے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو اپوزیشن کو ملاقات کی دعوت دینی پڑتی ہے لیکن شومئی قسمت سے آئی ایس پی آر کی موجودگی اور ڈی جی کے عہدے پر فائز ایک جنرل کے ہوتے ہوئے ایک ”ٹاؤٹ“ کے ذریعہ جس طرح خبروں کو پبلک کیا گیا اس سے اپوزیشن کے لیے اب اس فیصلہ کے سوا کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اگر اس خرابی اور اعتماد کی فضاء کو نقصان پہنچنے کے بعد بھی آئی ایس پی آر اپنے ”پالتو“ کو ”پھٹہ“ نہیں ڈالتے یا اس کی سرزنش نہیں کرتی توپھر میڈیا پر اس کی ”ہرزہ سرائی“ کا بھرپور جواب دیاجائیگا جس کی زد میں اس کی بے جا سرپرستی کرنیوالے بھی آئیں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا قابل احترام منصب غیر جانبداری کا متقاضی ہے اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے حکومت کی ”دلالی“ اور پشتی بان کا کردار ادا کرنے والے اسپیکر قومی اسمبلی کی دعوت پر نہ جاکر اپوزیشن نے اپنے ”عدم اعتماد“ کا برملا اظہار کردیا ہے کیوں کہ اس منصب پر فائز شخصیت کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ قائد ایوان، وزیر پارلیمانی امور اور وزیر قانون وغیرہ کی ذمہ داریاں بھی

سنبھالیں جبکہ عمران خان بھی اکثر اپنی ذمہ داریوں کو آرمی چیف اور کبھی اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعہ حاصل کرنا چاہئے جس سے دونوں ”بظاہر“ غیر جانبدار شخصیتوں کوتنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے اور یہ طریقہ ”واردات“ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ”عمرانی حکومت“

نے متعارف کرایا ہے، جمعیت کے ترجمان نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ غیر جانبدار مناصب پر فائز قابل احترام شخصیات اپنے آئینی اور غیر جانبدارانہ کردار پر آنچ نہ آنے دیں ویسے بھی ”جس کا کام اس کے ساجھے“ پر عمل پیرا ہونا ہی قوم و ملک کے مفادمیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…