جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

اپوزیشن کا حکومت کی دلالی کرنے والے سپیکر کی دعوت پرنہ جاکر عدم اعتماد کا برملا اظہار،حافظ حسین احمد نے شیخ رشید کو افسوسناک لقب دیتے ہوئے کھلم کھلا دھمکی دے ڈالی

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ/اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اور سابق ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی غیر جانبدار نہیں رہے اس لیے جے یو آئی سمیت پی ڈی ایم کے دیگر جماعتوں نے بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے ان کے بلائے گئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔وہ اتوار کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا اورمختلف وفود سے گفتگو کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معاملات خصوصاً قانون سازی پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا پارلیمنٹ کے قائد ایوان وزیراعظم کے فرائض میں شامل ہے لیکن گذشتہ دو سالوں سے وہ اپوزیشن سے ”کُٹی“ کئے ہوئے ہیں اور باامر مجبوری سیاسی معاملات میں مشاورت کے لیے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو اپوزیشن کو ملاقات کی دعوت دینی پڑتی ہے لیکن شومئی قسمت سے آئی ایس پی آر کی موجودگی اور ڈی جی کے عہدے پر فائز ایک جنرل کے ہوتے ہوئے ایک ”ٹاؤٹ“ کے ذریعہ جس طرح خبروں کو پبلک کیا گیا اس سے اپوزیشن کے لیے اب اس فیصلہ کے سوا کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اگر اس خرابی اور اعتماد کی فضاء کو نقصان پہنچنے کے بعد بھی آئی ایس پی آر اپنے ”پالتو“ کو ”پھٹہ“ نہیں ڈالتے یا اس کی سرزنش نہیں کرتی توپھر میڈیا پر اس کی ”ہرزہ سرائی“ کا بھرپور جواب دیاجائیگا جس کی زد میں اس کی بے جا سرپرستی کرنیوالے بھی آئیں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا قابل احترام منصب غیر جانبداری کا متقاضی ہے اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے حکومت کی ”دلالی“ اور پشتی بان کا کردار ادا کرنے والے اسپیکر قومی اسمبلی کی دعوت پر نہ جاکر اپوزیشن نے اپنے ”عدم اعتماد“ کا برملا اظہار کردیا ہے کیوں کہ اس منصب پر فائز شخصیت کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ قائد ایوان، وزیر پارلیمانی امور اور وزیر قانون وغیرہ کی ذمہ داریاں بھی

سنبھالیں جبکہ عمران خان بھی اکثر اپنی ذمہ داریوں کو آرمی چیف اور کبھی اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعہ حاصل کرنا چاہئے جس سے دونوں ”بظاہر“ غیر جانبدار شخصیتوں کوتنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے اور یہ طریقہ ”واردات“ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ”عمرانی حکومت“

نے متعارف کرایا ہے، جمعیت کے ترجمان نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ غیر جانبدار مناصب پر فائز قابل احترام شخصیات اپنے آئینی اور غیر جانبدارانہ کردار پر آنچ نہ آنے دیں ویسے بھی ”جس کا کام اس کے ساجھے“ پر عمل پیرا ہونا ہی قوم و ملک کے مفادمیں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…