پاکستان ہندو کونسل کا عالمی عدالت انصاف جانے کا اعلان

  اتوار‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2020  |  18:28

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ہندو کونسل نے عالمی عدالت انصاف جانے کا اعلان کردیا، جلد سپریم کورٹ میں بھی پٹیشن کی جائے گی۔ اتوار کو بھارت میں پاکستان میں جاسوسی سے انکار پر قتل ہونے والے گیارہ پاکستانیوں کے قتل پر اسلام آباد میں بھرپور احتجاج کے بعد پاکستان ہندو کونسل نے دوسرے مرحلے کا اعلان کردیا اس حوالے سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی وچیئرمین پاکستان ہندو کونسل ْ ڈاکٹر رمیش کمار نے قتل ہونے والے خاندان کی خاتون شری متی مکھی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے شہر جودھ پور میں جو


11 پاکستانی ہندووں کے ساتھ ہوا اس پر سخت فم و غصہ پایا جاتا ہے، پاکستان بھر سے ہندو یہاں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاھرے کے لئے آئے۔رمیش کمار نے کہاکہ جس خاندان کو قتل کیا گھا اس کی بیٹی شریمتی مکھی یہاں موجود ہیں، ھم نے انتظامیہ سے تعاون کرتے ہوئے جلد دھرنا ختم کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مقصد بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی یادداشت دینا تھی، ہم نے بھارتی ہائی کمیشن کو اپنے مطالبات حوالے کئے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ایف آئی آر کی کاپی، پوسٹمارٹم رپورٹ اور پاکستان ہائی کمیشن دھلی کو ساری معلومات تک رسائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندومذھب امن کی تعلیم دیتا ہے لیکن کشمیر میں مظالم ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نریندرا مودی سے کہتا ہوں رام کا نام لے کر غلط کام مت کریں۔ انہوں نین کہاکہ پاکستان کی سپریم کورٹ اقلیتوں کے حقوق کے لئے لڑ رہی ہے۔رمیش کمار نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا غلط فیصلہ دیا، بھارت سے مطالبہ ہے سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقات سے آگاہ کرے۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں جس طرح آٹھ سال تک رہنے والے پاکستانی ہندو خاندان کے ساتھ جو کیا گیا، وہ سٹیزن ایکٹ کا بھانڈا پھوڑتی ہے۔ رمیش کمار نے کہاکہہماری جدوجہد یہاں ختم نہیں ہوگی، کشمیر کی جدوجہد میں ھم نے صرف پانچ فیصد کیا ہے جو کرنا چاہئے تھا۔رمیش کمار نے کہاکہ نریندرا مودی کو کہتا ہوں ہندو مذھب کے مطابق انسان سے محبت کریں، پاکستانی ہندووں کو پاکستان کے خلاف جاسوسی کے لئے مجبور مت کریں۔ انہوں نے کہاکہ شریمتی مکھی کہتی ہیں جب تک انصاف نہ ملا وہ نہیں جائیں گی، ھم اس سارے معاملہ کو قانونیطریقے سے بھی نمٹائیں گے، اس معاملہ کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر جاؤں گا۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر کی تمام بارز سے درخواست ہے کہ اس کیس میں انصاف ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت ظلم کی حدیں پار کررہا ہے،بھارت ظلم کرکے چھپانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں مساجد کو گرا مندر بنانے کی روش چل نکلنا امن کے لئے خطرہہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی سے مخاطب ہوکر کہتا ہوں ہندو مذہب کی روح کے مطابق چلو۔ انہوں نے کہاکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پاکستانی ہندووں کو جاسوسی کے لئے تیار کرنے کی کوشش کی جائے وہ مان جائیں تو ٹھیک ورنہ قتل کردیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے سابق ججوں سے گیارہ ہندووں کے قتل کو عالمی انسانی حقوق عدالت میں لے جانے کے لئے مشاورت کی ہے،یہ کیس عالمی سطح پراہم کیس ہوگا۔ شری متی نے کہاکہ ہمارا بھارت یا پاکستان سے کوئی جھگڑا نہیں،ہمارے لوگ کیوں قتل کردیئے گئے،مجھے جواب چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ میرا سارا خاندان بھارت میں قتل کردیا گیا،میں نے اب زندہ رہ کر کیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے انصاف چا ہیے میں اسلام آباد میں بیٹھی ہوں،مجھے کوئی تو بتائے کہ میرے خاندان کے ساتھ کیا دشمنی تھی کہ قتل کردیا گیا،مجھےانصاف نہ ملا تو خودکشی کرلوں گی،اکیلی پورے خاندان میں بچی ہوں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت سرکار کہتے ہیں کہ مرنے والوں نے خود کشی کی تو ان کے چہرے کیوں وہاں ہمارے رشتہ داروں کو کیوں نہ دکھائے۔ انہوں نے کہاکہ انسان کو تو کتے پر بھی رحم آجاتا ہے مگر وہاں بچوں پر بھی رحم نہ آیا۔رمیش کمار نے کہاکہ شریمتی مکھی سے وعدہ ہے انصاف کے حصولکے لئے ان کا بھرپور ساتھ دوں گا۔انہوں نے کہاکہ عالمی عدالت انصاف جانے کے لئے قانونی ٹیم سے مشاورت کر رہا ہوں، ھم بھارت کو جھنجھوڑنے کے لئے ہرفورم استعمال کروں گا،پاکستان ہندو کونسل کے پلیٹ فارم سے تمام سفارتخانوں سے بھی رابطہ کروں گا۔رمیش کمار نے کہا کہ قاتلوں کو گرفتار کروانا ھمارا مقصد ہے، ہندوتوا مذھب نہیں منفی سوچ کا نام ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎