واپڈا حکام نے غیر معیاری ادویات خرید کر چھوٹے ملازمین کو کھلا دیں، بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف

  جمعہ‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2020  |  1:15

اسلام آباد(آن لائن)واپڈا کے ممبرفنانس نے ادویات اور مختلف اشیاء کی خریداری میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے لوٹ رکھے ہیں۔ ممبر فنانس اور واپڈا کی کوآرڈی نیشن برانچ میں مبینہ کروڑوں روپے کی کرپشن کی مفصل رپورٹ پارلیمانی کمیٹی کو مل گئی ہے جو عنقریب اس رپورٹ پر غور کرے گی اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے اقدامات تجویز کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق ممبرفنانس نے واپڈا ملازمین کو بلاجواز الائونسز کی مد میں 57کروڑ روپے جاری کئے جس میں وسیع پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جبکہ یہ بھاری ادائیگی مروجہ قوانین کی خلاف


ورزی پر کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ممبر فنانس کے پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 10کروڑ روپے کی ادویات خریدیں اور وسیع پیمانے پر مالی بدعنوانی کی۔ فنانس ونگ کی نااہلی کے باعث اسلام آباد میں سی ڈی اے کے پلاٹ حاصل کرنے کے باوجود ہسپتال تعمیر نہ کر سکی اور ادارہ کو 10کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا جبکہ سنٹرل پارک میڈیکل کالج سے 8کروڑ روپے کی ریکوری بھی نہ ہوسکی۔ واپڈا ہائوس کے کرایہ داروں سے کرایہ کی وصولی وغیرہ نہ کرکے ادارہ کو 6کروڑ 40لاکھ کا نقصان پہنچایا گیا جبکہ فضلہ کو صاف کرنے کا ٹھیکہ میں 5کروڑ کی مالی بدعنوانی سامنے آگئی ہے۔ ممبر فنانس نے اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لئے بغیر ریٹائرڈ آفیسر کو کنسلٹنٹ بھرتی کرکے 1کروڑ 98لاکھ کی مالی بدعنوانی کے مرتکب قرار دئیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق راول ریسٹ ہائوس اسلام آباد میں سول حکام کے نام پر من پسند کنٹریکٹر کو 1کروڑ 11لاکھ سے زائد کی ادائیگی کرکے بھاری مال کمایا گیا ہے جبکہ واپڈاکے حکام سپورٹس مین کو غیر قانونی ادائیگی کرکے 9ملین کا مالی نقصان پہنچایا ہے جبکہ ٹویٹا سروسز سے غیر شفاف خریداری میں 65لاکھ کی مالی بے ضابطگی کی گئی ہے۔واپڈا کے انڈر ویجیلنس ڈائریکٹوریٹ کے افسران نے غیر قانونی طورپر 53لاکھ کے فنڈز ہضم کر رکھے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ممبر فنانس نے 37لاکھ کی میڈیکل کمپنی سے مل کر غیر معیاری دوائیں خرید کر واپڈا ملازمین کو کھلا دیں جبکہ میڈیکل اوزار کی غیر ضروری خریداری میں 28لاکھ اڑا گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ممبرفنانس کی نااہلی کے باعث نجی ٹھیکہدار نے واپڈا کے سٹور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ نجی ٹھیکہ کی کمپنی یونائیٹیڈ کنسٹرکشن کمپنی کے سٹور آفس پر قبضہ کرکے 18لاکھ کرایہ بھی نہیں دیا ہے جبکہ بعض دوائوں کی اصل قیمت سے زائد ادائیگی کی۔ واپڈا حکومت کا ایک اہم ادارہ ہے لیکن کرپشن ، مالیبدانتظامی اور نااہل افسران کی تعیناتی اس ادارے کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر چکی ہے ۔ اس ادارہ میں کرپشن وسیع پیمانے پر ہے بالخصوص اس کے آبی ونگ میں اربوں رپے کی کرپشن ہوئی ہے جس پر کئی کرپشن ریفرنس بھی افسران پرکئے گئے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎