اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

نیم بیہوشی میں کلفٹن سے ملنے والی 22سالہ متاثرہ لڑکی کیس میں  اہم پیشرفت، گاڑی نے لڑکی کورات کتنے بجے بٹھایا گیا اور کس وقت شاپنگ مال کے گیٹ کے قریب چھوڑا ؟پولیس کا حیران کن انکشاف

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کے علاقے کلفٹن میں لڑکی کو آبرو ریزی کا نشانہ بنانے کے کیس میں پیش رفت ہوئی ہے، کلفٹن میں پولیس نے خاتون کی نشاندہی پر ملزم کی گرفتاری کیلئے خیابان نشاط میں فلیٹ پر چھاپہ مارا لیکن ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا،

پولیس کے مطابق لڑکی سے ایک بااثر شخص کا موبائل نمبر برآمد ہوا ہے جبکہ آبرو ریزی کرنیوالے ملزمان کی شناخت ہوگئی ہے، ان کا تعلق اندرون سندھ سے ہے۔پولیس کے مطابق لڑکی کی جانب سے پولیس کو دیئے گئے ایک موبائل نمبر سے متعلق تفتیش مکمل ہو گئی ہے، لڑکی کے مطابق ملزمان نے یہ نمبر اسے دیا تھا۔پولیس کے مطابق مذکورہ موبائل نمبر ایک بااثر شخص کا ہے، تفتیش کے مطابق مذکورہ نمبر جائے وقوع پر استعمال نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق مذکورہ بااثر شخص کی واقعے کے روز کی مصروفیات بھی چیک کی گئی ہیں، بااثر شخص کے خلاف واقعے میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔پولیس نے بتایا ہے کہ بااثر شخص کے بچوں کا ڈیٹا بھی چیک کیا جا رہا ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کی نشاندہی پرخیابان نشاط میں فلیٹ پر چھاپہ مارا تاہم ملزم فرار ہوگیا۔پولیس نے ملزم کے رشتے داروں کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، پولیس کے مطابق فلیٹ کی نشاندہی خاتون کی جانب سے کی گئی۔کیس میں ملوث ملزمان کی پوری تفصیل حاصل کر لی ہے،پولیس نے دعوی کیا ہے کہ آبرو ریزی کرنیوالے ملزمان کا تعلق اندرون سندھ اور ایک ملزم جیکب آباد کے مرحوم سیاسی رہنما کا رشتہ دار ہے ۔گذشتہ روز کلفٹن سے لڑکی کے اغوا اورآبروریزی کے واقعے میں میڈیکل رپورٹ میں متاثرہ لڑکی سے اجتماعی آبرو ریزی کا انکشاف ہوا تھا،متاثرہ لڑکی کے کپڑے اور دیگرنمونے لیب بھیج دیئے گئے ہیں، میڈیکولیگل کے مطابق مجموعی طورپرکتنے افراد نے آبرو ریزی کی، کہنا قبل ازوقت ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو 9 بج کر 46 منٹ پر گاڑی میں بٹھایا گیا جبکہ 10 بج کر 44 منٹ پر لڑکی کو شاپنگ مال کے گیٹ کے قریب چھوڑا گیا۔۔دوسری جانب لڑکی سے آبرو ریزی کا مقدمہ بوٹ بیسن تھانے میں درج کرلیا گیا ہے اور واقعے کی تفتیش کیلئے اے ایس پی زاہدہ پروین ودیگرخواتین افسرکوذمہ داری دے دی گئی ہے، ڈیفنس کے مختلف مقامات سے سی سی ٹی وی فوٹیجز کا ڈیٹا حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…