ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

مولانا  ”اپوزیشن فیلو” کے ساتھ ساتھ اب ”نیب فیلو” بھی بن  گئے

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ( آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ستمبر کے بعد ستمگر کے دن گنے جائیں گے، حکومت کو جنوری تک کی مہلت اس لیے دی گئی ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں اپنا ہوم ورک اور نیٹ پریکٹس مکمل کرسکیں،دو سال کے بعدہی امپائر نے اپنی غیر جانبداری کی یقین دہانی کرادی ہے اب حکومتی ٹیم کو فالو آن سے

کوئی نہیں بچا سکتا ۔ اپنی رہائشگاہ جامع مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا مزید کہنا تھا کہ جنوری تک حکومت کو 100دن کی مہلت اس لیے گوارا کی گئی ہے کہ جے یو آئی کے طرح اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے ابھی تک اپنا ہوم ورک اور نیٹ پریکٹس مکمل نہیں کرسکی جبکہ جے یو آئی آزادی مارچ سیریز کے علاوہ ملین مارچ کے 15،20ٹی ٹونٹی میچ بھی کھیل چکی ہے،انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ میچ سے پہلے امپائر نے دونوں طرف کے  کھلاڑیوں کو بلاکر اپنی غیر جانبداری کی یقین دہانی کرائی ہے جو خوش آئند ہے کاش یہ عمل جنرل شجاع پاشا کے دور سے ہی عمل پزیر ہوتا توآج یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی بہرحال دیر آید درست آید لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ دو سال کے بعد اس وضاحت کی کیوں ضرورت درپیش ہوئی؟ جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ جے یو آئی کی مجلس شوریٰ نے مولانا فضل الرحمن کے صدارتی دنگل میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا البتہ مسلم لیگ ن کے قائدین کے پرزور اصرار پر یہ فیصلہ تبدیل کیا گیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 70سالہ دور میں مارشل لاء اور ڈکٹیٹر حکمرانوں کے باوجود سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی راہ نکالی،مولانا فضل الرحمن کو نیب کے نوٹس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ اب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے مزید مستحکم ہونے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں کیوں کہ اب وہ ”اپوزیشن فیلو” کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے”نیب فیلو” بھی بن چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ کھیل کا مزہ تو اب آئے گا کیوں کہ ایک طرف ”متاثرین نیب” اور دوسری جانب” نیب کے چہتے” ہیں اب اگر امپائر اپنے وعدے کے مطابق غیر جانبدار رہا تو پھر حکومتی ٹیم کو فالو آن سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…