بلدیہ فیکٹری،زبیر طاقتورترین ملازم تھا،مالکان اور منیجر کے بعد زبیر کی بات سنی جاتی تھی ، زبیر کو ۔۔۔فیکٹری کے چوکیدارنے خاموشی توڑدی حیرت انگیز انکشاف کر دیا

  بدھ‬‮ 23 ستمبر‬‮ 2020  |  0:02

کراچی(این این آئی)کراچی کی بلدیہ ٹائون فیکٹری میں آتشزدگی کا ذمہ داراسی فیکٹری کا ملازم زبیر تھا،زبیر کا تعلق نہ صرف ایم کیوایم سے تھا بلکہ وہ فیکٹری کی طاقت ور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔فیکٹری کے چوکیدارارشد محمودکے مطابق زبیر چریا فیکٹری کی چوتھی طاقت تھیاورمالکان اور منیجر کے بعد زبیر کی بات سنی جاتی تھی۔انھوں نے بتایا کہ فیکٹری کا کوئی چوکیدار بھی زبیر کو روک کرپوچھ بھی نہیں سکتا تھااگر کبھی فیکٹری مالک زبیر کو نکالنے کی بات کرتے توجنوبی افریقا سے فون آجاتا تھا۔آگ سے متعلق انھوں نے بتایا کہ 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری میں آگ


کی شدت بہت تھی،پانی ڈالنے پرآگ اور پھیلتی تھی اورفیکٹری میں آگ عجیب اندازمیں لگی۔چوکیدارنے بتایا کہ فیکٹری کے کسی حصے میں آگ تھی اورکہیں نہیں تھی،فرش پرآگ لگی ہوئی تھی،کپڑے کو آگ نہیں لگی۔ انھوں نے بتایا کہ آگ لگنے سے فیکٹری کی چھت نہیں گری البتہ سیڑھیاں گرگئی تھیں۔چوکیدارنے ایک اور بات بتائی کہ اس واقعہ سے کچھ روز قبل مالکان کی حرکتیں بھی تبدیل ہوگئی تھیں،پہلے مالکان ایک ساتھ آتے تھے اورپھرالگ الگ آنے لگے تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎