بلوچستان میں 7 لاکھ سے زائد آبادی کے بے گھر ہونے کا انکشاف ،  انتہائی افسوسناک  تفصیلات

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  23:58

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان میں 7 لاکھ سے زائد آبادی کے بے گھر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں 7 لاکھ 41 ہزار 765 افراد کے بے گھر ہونے کا انکشاف ہوا ہے بے گھر لوگوں کو پناہ دینے کے لئے 1،00،000 سے زائد مکانات کو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ شہری منصوبہ بندی و ترقیات نے صوبے میں بے گھر لوگوں کے لئےمکانات کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لئے ضلعی اور ڈویژنل سطح پر سرکاری اراضی کا تعین کرنے اور اسے حاصل کرنے کی ضرورت ہے شہری منصوبہ بندی و ترقیات نے صوبائی اعلی حکام


کو ایک سمری بھیجی ہے کہ رہائشی اعداد و شمار ،ہجرت ، آمد ، مانگ اور رسد اکٹھا کرنے کیلئے ایک جامع ہاسنگ انفارمیشن سسٹم بھی قائم کیا جانا چاہئے۔سیکرٹری شہری منصوبہ بندی و ترقیات عبدالطیف کاکڑ نے بتایا کہ بلوچستان کے شہروں میں اس آبادی کو پناہ کی اشد ضرورت ہے بلوچستان میں بیشتر بے گھر افراد کا تعلق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ہے۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے محکمہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بے گھر ہونے والے افراد کو پناہ دینے کیلئے ہاسنگ پالیسی تیار کرے۔ عبدالطیف کاکڑ نے بتایا کہ "بے گھر لوگوں کو پناہ دینے کے لئے 1،00،000 سے زائد مکانات کو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے محکمہ شہری منصوبہ بندی کو مکانات کی تعمیر کے لئے 3،118 ایکڑ اراضی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر)فضیل اصغر نے بھی گہری دلچسپی لیتے ہوئے محکمہ کو ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں ڈرافٹ پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لئے کوششیں تیز کریں بلوچستان حکومت کی ترجیح ہے کہ تمام شہری مراکز میں ترجیحا تمام ڈویژنل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں کم لاگت اور سستی رہائش کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ مجوزہ پالیسی / ڈرافٹ کے تحت محکمہ ریونیو سے رہائشی سکیموں کے مقصد کے لئے محکمہ شہری منصوبہ بندی ڈویلپمنٹ کو لیز پر دینے اور ریاستی اراضی الاٹ کرنے کو کہا جائے گا۔ عبدالطیف کاکڑ نے کہاکہ معاشرے کے پسماندہ اور بے گھر افراد کی فلاح و بہبود کے لئے اس مجوزہ منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے عوامی نجی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صوبے کے شہری مراکز میں رہائشی سکیمیں شروع کرنے کے لئے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎