جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

لاہور موٹر وے کیس، جہاں جہاں ملزم جا رہا ہے۔۔۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری بارے انتہائی اہم بات

datetime 20  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن) ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شہزادہ سلطان نے لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ موٹروے کیس میں پنجاب پولیس اپنی کاوشوں سے ایک مرکزی ملزم شفقت کو گرفتار کر چکی ہے جبکہ دوسرے ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے پنجاب کے متعدد اضلاع میں پولیس کی ٹیمیں موجود ہیں۔جو کسی بھی اطلاع پر فوری ایکشن لینے کے لئے تیار

ہیں۔ ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے پنجاب پولیس اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔اس مقصد کے لئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کی سربراہی میں ایک سپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں سی ٹی ڈی پنجاب اور سپیشل برانچ پنجاب کے سینئر افسران بھی شامل ہیں جو دن رات ملزم کی گرفتاری کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں اس وقت 8 چھاپہ مارٹیمیں اس کام پر مامور ہیں۔ان ٹیموں میں سی آئی اے لاہور کے افسران اورسی ٹی ڈی پنجاب کے افسران شامل ہیں۔ان کے علاوہ سپیشل برانچ کی خفیہ ٹیمیں بھی سراغ براری میں مصروف ہیں۔ان ٹیموں کے علاوہ تمام اضلاع میں ریپڈ ریسپانس ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی جگہ ملزم کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر مؤثر ایکشن کیا جا سکے۔پنجاب پولیس نے مختلف اضلاع میں ملزم کے تمام ممکنہ ٹھکانوں کے پیش نظر ایک مؤثر اور مربوط جال بچھا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ ملزم کے ساتھ پولیس کا ٹاکرا ہو رہا ہے۔لہٰذا یہ تاثر غلط ہے کہ پولیس کی کاوشیں رنگ نہیں لا رہی ہیں۔ جہاں جہاں ملزم جا رہا ہے وہاں وہاں پولیس یا تو اس کے پیچھے ہے یاپہلے سے موجود ہے۔ ملزم اس وقت اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے سر توڑکوشش کر رہا ہے مگر پکڑا جائے گا۔ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ ملزم کے اور ساتھی بھی اس واردات میں ملوث ہیں۔ابھی تک کی تفتیش میں اس جرم میں صرف دو ملزمان ملوث پائے گئے ہیں جن میں ایک گرفتار ہو چکا ہے۔

موٹروے کیس ایک بلائنڈ واردات تھی جس میں ملزمان نامعلوم تھے پولیس نے اپنی محنت اور کاوش سے اس واردات کے ملزمان کو تین روز کے اندر اندر بے نقاب کر دیا اور ایک مرکزی ملزم کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔اس کے علاوہ مقدمہ کی تفتیش کو صحیح خطوط پر آگے بڑھا نے کے لئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے اپنے قابل پراسیکیوٹرز پر مشتمل سپیشل ٹیم اس کیس کے لئے مامور

کی ہے جو اس کیس کے تما م قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ قانونی طور پر ایک درست اور مضبوط مقدمہ عدالت میں دائر کیا جا سکے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا ملے۔چونکہ یہ کیس بہت حساس نوعیت کا ہے جس میں متاثرہ خاتون کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ اس کو مزید نفسیاتی،جذباتی اور سماجی دباؤ سے بچایا جاسکے۔اس سلسلہ میں حکومت

پنجاب کے اْس قانون کا بھی اس کیس میں اطلاق کیا جا رہا ہے جو اس طرح کے حساس مقدمات میں متاثرہ خواتین اور گواہان کی شناخت کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔میڈیا سے گزارش ہے کہ لوگوں کو باخبر ضرور رکھیں لیکن ایسی خبروں سے اجتناب کریں جو تفتیش

کو غلط سمت میں لے جا سکتی ہیں،یا ملزم کو تفتیش کے بارے میں اطلاع فراہم کر سکتی ہیں۔عوام سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پولیس پر اعتماد رکھیں۔جس طرح پہلے ہم نے ملزم شفقت کو گرفتار کیا ہے اسی طرح مفرور ملزم عابد کو بھی جلد گرفتار کر لیں گے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…