اے پی سی کے انعقاد کے موقع پرمیڈیا پر جاری پابندیوں سمیت انٹرنیٹ بند کرکے مزید قدغن لگائے جانے کا امکان، تہلکہ خیز دعویٰ

  ہفتہ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2020  |  20:31

کوئٹہ( آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہی ”عمرانی حکومت“ نے ہتھیار ڈال دئیے ہے، اے پی سی کے انعقاد کے موقع پرمیڈیا پر جاری پابندیوں سمیت انٹرنیٹ بند کرکے مزید قدغن لگائے جانے کا امکان ہے،مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کوپیپلز پارٹی کی جانب سے ورچوئل خطابکی دعوت سے ہی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ نوازشریف کے اے پی سی سے ورچوئل خطاب سے خوفزدہ حکمرانوں نے نواز شریف کو


باہر بھیجنے اور خاموش رہنے کے لیے شعوری منصوبہ بندی اور کاوش کی تھی۔ وہ ہفتہ کے روز غیر منتخب اقلیتی مشیر شہباز گل کے بیان پر تبصرہ کررہے تھے، اس موقع پر جے یو آئی ملتان کے رہنما ملک محمد اکرم، ملک محمد جنید، حاجی محمد نور خان ناصر، محمد ابوبکر، محمد عمر فاروق، جے یو آئی پنجگورکے رہنما مولانا علی احمد، قاری محمد صالح، معاویہ رشید، حافظ عبدالوحید محمد حسنی، قاری رشید احمد، حافظ زبیر احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ 20ستمبر کو اے پی سی کے انعقاد پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بھی امتحان ہے کہ وہ حکومت کے فاشسٹ احکامات پر سرتسلیم خم کریں گے یا اظہار آزادی کے علم کو ہر صورت بلند رکھیں گے، جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ یہ اے پی سی حکومت سے زیادہ اپوزیشن رہنماؤں کے لیے بھی چیلنج کا درجہ رکھتی ہے کہ وہ ابھی یا کبھی نہیں کی بنیاد پرموثر، مخلصانہ عملی اقدامات کا متفقہ فیصلہ کریں، انہوں نے کہا کہ دو سال تک شیر آیا شیر آیا کے نعرے کے بعد اب شیر کوسچ مچ آنا چاہئے، حافظ حسین احمدنے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اور اس کے شانہ بشانہ دیگر 8جماعتیں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کو عملی میدان میں لانے کے لیے کوشاں ہیںلیکن بدقسمتی سے بیانیہ اور وعدے کے باوجود اس میں کامیابی حاصل نہ کی جاسکی، انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ اب بھی ”ہومیوپیتھک“ٹائپ کا کوئی فیصلہ کیا گیا توپھر سنجیدہ چھوٹی پارلیمانی پارٹیاں حتمی عملی اقدام کی طرف جاسکتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اے پی سی میں موجودہسلیکٹیڈ حکومت کے خاتمے کے لیے بھرپور احتجاج اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ کی تجویز سامنے لائے گی، جے یو آئی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان ہاؤس تبدیلی سے دھاندلی کے ذریعے قائم کردہ پارلیمنٹ ہاؤس کے طے شدہ حیثیت اور ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎